
جودھ پور، 14 مارچ (ہ س)۔ لداخ کے مشہور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو ہفتہ کی دوپہر جودھ پور سنٹرل جیل سے رہا کر دیا گیا۔ تقریباً 170 دنوں تک جیل میں رہنے کے بعد، مرکزی حکومت نے ان کے خلاف عائد نیشنل سیکورٹی ایکٹ (این ایس اے) کو فوری اثر سے ہٹا دیا۔
سونم وانگچک کو لداخ انتظامیہ نے 24 ستمبر 2025 کو حراست میں لیا تھا، جس کے بعد 26 ستمبر کو انہیں جودھ پور جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ ان پر لداخ میں ریاست کا درجہ اور چھٹے شیڈول کے مطالبے پر تشدد بھڑکانے کا الزام تھا، جس میں چار افراد ہلاک اور 150 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔
مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب سپریم کورٹ میں وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی کی طرف سے دائر درخواست پر 17 مارچ کوسماعت ہونے والی تھی۔ وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق، لداخ میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کی فضا کو فروغ دینے کے لیے ان کی حراست ختم کرنے کا فیصلہ لیا گیا ۔
مرکزی حکومت نے واضح کیا کہ وہ لداخ کے لوگوں کی امنگوں کو بات چیت اور گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اپنی رہائی کے بعد وانگچک نے سوشل میڈیا پر لکھا، ”میں فعالیت سے پیچھے نہیں ہٹا ہوں۔ ہماری جدوجہد لداخ کی سلامتی، وقار اور مستقبل کے لیے تھی اور رہے گی۔“
وانگچک کی رہائی کا مطالبہ لیہہ اپیکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس کی طرف سے مسلسل اٹھایا جا رہا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد