ایران کی اسرائیل پر میزائل حملے جاری، اسرائیلی انتباہ
تہران،14مارچ(ہ س)۔ایران کی اسرائیل و امریکہ کے ساتھ جنگ اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی، ایرانی افواج نے آج ہفتے کے روز اسرائیل کی جانب میزائل داغنے کی تازہ کارروائی کی ہے۔ یہ بات ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے بتائی۔ ادھر ایرانی پاسداران انقل
ایران کی اسرائیل پر میزائل حملے جاری، اسرائیلی انتباہ


تہران،14مارچ(ہ س)۔ایران کی اسرائیل و امریکہ کے ساتھ جنگ اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی، ایرانی افواج نے آج ہفتے کے روز اسرائیل کی جانب میزائل داغنے کی تازہ کارروائی کی ہے۔ یہ بات ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے بتائی۔ ادھر ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام ’خاتم الانبیائ‘ ہیڈکوارٹر نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فورسز نے اسرائیل کے مقتدر رہنماو¿ں کے 10 مقامات اور خطے میں امریکی افواج کے اجتماع کے 3 مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ حیفا، قیصریہ، زرعیت، شلومی اور حولون میں فوجی صنعتوں کے مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اسی طرح پاسداران انقلاب نے اشارہ دیا ہے کہ اس نے الجلیل، گولان اور حیفا کو ڈرونز اور قدر و خیبر میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔اسی دوران اسرائیلی فوج نے ایران کے شہر تبریز میں ایک مخصوص صنعتی علاقے کو خالی کرنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔ اس نے ایک بیان میں اشارہ دیا کہ اس نے ایران سے داغے گئے میزائلوں کا پتہ لگایا ہے اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دفاعی نظاموں نے خطرے کو روکنے کے لیے کام کیا۔اسرائیلی ہوم فرنٹ نے بتایا کہ گولان، حیفا اور شمالی اسرائیل کے وسیع علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔اسرائیلی فوج نے گذشتہ روز جمعہ کو بتایا تھا کہ اس نے امریکہ کے ساتھ مل کر دو ہفتے قبل ایران پر حملے کے آغاز سے اب تک وہاں 7600 حملے کیے ہیں۔ مزید یہ کہ 2 مارچ سے اب تک لبنان پر 1100 حملے کیے ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے ملک نے ایران کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور اس کے فضائی دفاع، میزائلوں، ڈرونز کے ساتھ ساتھ اس کے بحری جہازوں کو بھی کچل دیا ہے۔ انہوں نے مختلف ایرانی علاقوں پر مزید طاقتور ضربیں لگانے کی دھمکی بھی دی۔اس کے علاوہ ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ امریکی افواج نے جزیرہ خرج کے تمام فوجی مقامات پر بمباری کی ہے جسے ایرانی تیل کا تاج سمجھا جاتا ہے۔امریکی صدر نے جنگ کے خاتمے کی تاریخ مقرر کرنے سے انکار کر دیا اور اسے اس وقت تک جاری رکھنے کا عزم کیا جب تک ضرورت محسوس ہوگی۔بعض امریکی اور اسرائیلی ذرائع نے اندازہ لگایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے ساتھ اپنی مشترکہ جنگ مزید 3 سے 4 ہفتوں تک جاری رکھیں گے۔یہ میدانی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 28 فروری کو چھڑنے والی جنگ اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو رہی ہے، اور اس حوالے سے بین الاقوامی تشویش پائی جاتی ہے کہ یہ طویل ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب اس کا دائرہ کار عراق اور لبنان تک پھیل چکا ہے۔ تہران کی جانب سے ڈرونز اور میزائل داغ کر خلیجی ممالک کی فضائی حدود کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، اگرچہ ان میں سے بیشتر کو روک لیا گیا ہے۔یہ صورتحال آبنائے ہرمز کے مسلسل مفلوج رہنے کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان بھی سامنے آئی ہے، جہاں سے دنیا کی گیس اور تیل کی ترسیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ جہازوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کے نتیجے میں ایران کی جانب سے اسے بند کیے جانے سے تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande