
تہران، 14 مارچ (ہ س) ۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اب ہندوستان سمیت دنیا بھر کے ممالک سے روس سے خام تیل خریدنے کی اپیل کر رہا ہے، جب کہ اس سے قبل وہ ممالک پر دباو¿ ڈالتا تھا کہ وہ روس سے تیل نہ خریدیں۔
ایران کے وزیر خارجہ نے روسی تیل سے متعلق امریکی موقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی پوسٹ میں لکھا کہ ’ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ کے بعد اب امریکا بھارت سمیت دنیا سے بھیک مانگ رہا ہے کہ وہ روسی خام تیل خریدے‘۔
ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی فوجی مہم پر یورپی ممالک کے تبصروں کے بارے میں، عراقچی نے کہا، یورپ کا خیال تھا کہ ایران کے خلاف غیر قانونی جنگ کی حمایت کرنے سے وہ روس کے خلاف امریکی حمایت حاصل کرے گا۔ یہ افسوسناک ہے۔
عراقچی نے اپنی پوسٹ کے ساتھ فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ شیئر کی، جس میں کہا گیا ہے کہ روس ایران جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے تیل کے بحران سے ہر روز اضافی 150 ملین ڈالر، یا تقریباً 1389 کروڑ روپے کما رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، تنازع کے پہلے 12 دنوں میں، روس نے تیل کی برآمدات سے 1.3 بلین ڈالر اور 1.9 بلین ڈالر کے درمیان اضافی آمدنی حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر موجودہ قیمتیں برقرار رہیں تو ماسکو ماہ کے آخر تک 3.3 بلین سے 5 بلین ڈالر اضافی کما سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ