این ایکس ٹی کانکلیو پالیسی سازی، اختراع، عالمی تعاون کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن رہا ہے: برلا
نئی دہلی، 13 مارچ (ہ س): لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ این ایکس ٹی کانکلیو 2026 پالیسی سازی، غور و فکر، اختراعات اور بین الاقوامی تعاون کے لیے ایک اہم عالمی پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس طرح کے فورم دنیا بھر کے پارلیمنٹرینز اور پالیسی
برلا


نئی دہلی، 13 مارچ (ہ س): لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ این ایکس ٹی کانکلیو 2026 پالیسی سازی، غور و فکر، اختراعات اور بین الاقوامی تعاون کے لیے ایک اہم عالمی پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس طرح کے فورم دنیا بھر کے پارلیمنٹرینز اور پالیسی سازوں کو عصری عالمی چیلنجوں اور مواقع پر بامعنی بات چیت کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

برلا نے یہ بات جمعہ کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں 30 سے زائد ممالک کے اراکین پارلیمنٹ کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہی، جو این ایکس ٹی کنکلیو 2026 میں شرکت کے لیے آیا تھا۔ انہوں نے مختلف جمہوری ممالک کے عوامی نمائندوں اور دیگر معززین کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں خوش آمدید کہنے پر خوشی کا اظہار کیا اور عالمی پارلیمانی مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے راجیہ سبھا کے رکن کارتکیہ شرما کی ستائش کی، جنہوں نے این ایکس ٹی 2026 کنکلیو اقدام کی سربراہی کی ہے۔ برلا نے کہا کہ یہ پہل گورننس، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون سے متعلق موضوعات پر بامعنی بات چیت کو فروغ دینے کے لیے پوری دنیا کے اراکین پارلیمنٹ، پالیسی سازوں، اور عالمی سوچ کے رہنماو¿ں کو اکٹھا کر رہی ہے۔

ہندوستان کی جمہوری روایت کا ذکر کرتے ہوئے لوک سبھا کے اسپیکر نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر ہندوستان کو اکثر جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات چیت، اتفاق رائے اور شراکتی فیصلہ سازی کی ملک کی بھرپور روایت کی عکاسی کرتا ہے۔ ہندوستان کی پارلیمنٹ اس کے 1.4 بلین شہریوں کی امنگوں اور تنوع کی نمائندگی کرتی ہے، جہاں مختلف نقطہ نظر کے درمیان بحث اور مکالمے کے ذریعے پالیسیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔ جمہوریت کی یہ طاقت ہندوستان کو عالمی سطح پر ایک اہم مثال بناتی ہے۔

برلا نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ہندوستان نے پچھلی دہائی کے دوران جامع ترقی، ڈیجیٹل اختراع اور اچھی حکمرانی میں جو پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی گورننس نے انتظامی عمل کو مزید موثر اور شفاف بنا دیا ہے۔ ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) سسٹم اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے حکومت نے عوامی انتظامیہ میں شفافیت اور جوابدہی کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ اس سے سرکاری اسکیموں کا فائدہ براہ راست مستحقین تک پہنچانا ممکن ہوا ہے۔

لوک سبھا کے اسپیکر نے پارلیمانی عمل کو مزید موثر اور شفاف بنانے کے لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پارلیمنٹ، جدید پارلیمانی تحقیقی نظام اور جدید معلوماتی پلیٹ فارمز جیسے اقدامات کے ذریعے پارلیمنٹ کے کام کاج کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔

پارلیمانی سفارت کاری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، برلا نے کہا کہ ہندوستانی پارلیمنٹ نے حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں مختلف قانون ساز اداروں کے ساتھ بات چیت اور تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے 60 سے زیادہ پارلیمانی دوستی گروپس قائم کیے ہیں۔ یہ گروپ مختلف ممالک کے اراکین پارلیمنٹ کے درمیان خیالات، تجربات اور بہترین طریقوں کے تبادلے کو قابل بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے اراکین پارلیمنٹ کے درمیان علم اور تجربات کا وسیع تبادلہ ضروری ہے۔ اس طرح کے مکالمے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ افہام و تفہیم اور تعاون کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

برلا نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ این ایکس ٹی کنکلیو 2026 کے دوران ہونے والی بات چیت سے ممالک کے درمیان جمہوری تعاون، باہمی مفاہمت اور شراکت داری کو مزید تقویت ملے گی۔ یہ پلیٹ فارم عالمی جمہوری برادری کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے اور مستقبل کے چیلنجوں کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

یہ قابل ذکر ہے کہ این ایکس ٹی کانکلیو 2026 مختلف ممالک کے اراکین پارلیمنٹ، پالیسی سازوں اور صنعت کے رہنماو¿ں کو اکٹھا کرتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم گورننس، ٹیکنالوجی، اختراعات اور بین الاقوامی تعاون سے متعلق ابھرتے ہوئے مواقع اور چیلنجوں پر وسیع بات چیت میں مصروف ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande