
نئی دہلی، 12 مارچ (ہ س)۔ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے جمعرات کو ایک بین الاقوامی آن لائن فراڈ کیس کے سلسلے میںدہلی، راجستھان، اتر پردیش اور پنجاب میں 15 مقامات پر چھاپے مارے ۔یہ معاملہ دبئی میں واقع فن ٹیک پلیٹ فارم پائپل (پی وائی وائی پی ایل)کے ذریعہ کی گئی سرمایہ کاری اور پارٹ ٹائم دھوکہ ملازمتوں کے نام پر دھوکہ دہی سے متعلق ہے۔
سی بی آئی نے یہ کیس وزارت داخلہ کے انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (I4C) کے ان پٹ کی بنیاد پر درج کیا تھا۔ الزام ہے کہ ایک منظم بین الاقوامی گینگ نے آن لائن اسکیموں کے ذریعے ہزاروں ہندوستانی شہریوں کے ساتھ کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی کی ۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ نیٹ ورک نے سوشل میڈیا، موبائل ایپ اور انکرپٹڈ میسجنگ سروسز کا استعمال کرکے لوگوں کو زیادہ منافع کا لالچ دے کر سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا ۔ ابتدائی طور پر، چھوٹی سرمایہ کاری پر فرضی منافع دکھایا گیااور بعد میں بڑی رقم کی سرمایہ کاری کروائی گئی۔
ایجنسی نے کہا کہ فراڈ کی رقم کو فوراً کئی میول (دھوکہ دہی کے لیے استعمال کیے جانے والے جعلی اکاو¿نٹس) بینک اکاو¿نٹس کے ذریعے فنڈز کے ذرائع ٹرانسفر کر دی جاتی تھی تاکہ رقم کے ذرائع کو چھپایا جا سکے ۔ اس کے بعد فنڈز کو بین الاقوامی اے ٹی ایم نکاسی اور غیر ملکی فن ٹیک پلیٹ فارم، خاص طور پر پائپل پر والیٹ ٹاپ -اپ کے ذریعے باہربھیجی جاتی تھی۔ یہ ٹرانزیکشنز بینکنگ سسٹم میں پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) ٹرانزیکشن کے طور پردرج ہوتے تھے۔
تحقیقات نے دہلی-گروگرام سرحد پر واقع بیجواسن گاو¿ں کے چارٹرڈ اکاو¿نٹنٹ اشوک کمار شرما کی اس نیٹ ورک کے سرغنہ کے طور پرشناخت کی ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے میول کھاتوں اور غیر ملکی چینلز کے ذریعے سینکڑوں کروڑ روپے بیرون ملک منتقل کئے۔ فراڈ شدہ فنڈز کا ایک حصہ کرپٹو کرنسی میں بھی تبدیل کیا گیا تھا۔ یہ بھی سامنے آیا کہ شرما نے گزشتہ ایک سال میں تقریباً 900 کروڑ روپے کی رقم دو 15 شیل کمپنیوں کے کھاتوں کے ذریعے اداروں سے ہوکر بیرون ملک منتقل کئے۔ ان اداروں نے فنڈز کو ہندوستان میں مقیم ورچوئل اثاثہ جات کے تبادلے کے ذریعے یو ایس ڈی ٹی میں تبدیل کیا اور انہیں وائٹ لسٹیڈ والیٹ میں منتقل کیا۔
سی بی آئی نے ستمبر 2025 میں ان اداروں کے بینک کھاتوں کو منجمد کر دیا تھا۔ تلاشی کے دوران مشکوک دستاویزات اور ڈیجیٹل ثبوت برآمد ہوئے۔ یہ بھی پتہ چلا کہ کئی بے گناہ افراد کو دھوکہ دہی سے شیل کمپنیوں کے ڈائریکٹرز کے طور پر تعینات کیا گیا اور یہ کمپنیاں جعلی دستاویزات کے ذریعے رجسٹر کی گئیں۔ سی بی آئی نے اشوک شرما کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ ایجنسی نے کہا کہ مزید تفتیش غیر ملکی شہریوں سمیت دیگر ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کرے گی اور ملکی اور بین الاقوامی مالیاتی چینلز کے ذریعے منتقل کی گئی فراڈ فنڈز کا سراغ لگا کر اسے منجمد کر دے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد