اے ایم یو اولڈ بوائز کے الیکشن پر روک،سوسائٹی رجسٹرار نے جاری کیا حکم
علی گڑھ, 12 مارچ (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن سے متعلق ایک اہم معاملے میں آج پریس کانفرنس کے دوران اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے رکن سید ندیم احمد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسوسی ایشن کے انتخابات سے متعلق کسی بھی
پریس کانفرنس کرتے ہوئے


علی گڑھ, 12 مارچ (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن سے متعلق ایک اہم معاملے میں آج پریس کانفرنس کے دوران اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے رکن سید ندیم احمد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسوسی ایشن کے انتخابات سے متعلق کسی بھی قسم کی کارروائی اس وقت تک انجام نہیں دی جائے گی جب تک جنرل باڈی کے ارکان کی رکنیت کی درستگی کا تعین نہیں ہو جاتا۔انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ سوسائٹیز رجسٹریشن اور چِٹ فنڈ آگرہ کی جانب سے جاری حکم نامہ نمبر 3668 مورخہ 10 مارچ 2026 کے مطابق ایسوسی ایشن یکم نومبر 2025 سے دفتر کے حکم کے تحت غیر مؤثر قرار دی جا چکی ہے، جو فی الحال آخری اور مؤثر حکم ہے۔ اس سلسلے میں ایکٹ کی دفعہ 4B کے تحت گزشتہ تقریباً ایک سال سے جنرل باڈی کے ارکان کی رکنیت کی جانچ اور درستگی کا عمل جاری ہے۔بیان کے مطابق ڈاکٹر اعظم میر خان کی جانب سے 2 جنوری 2026 کو جنرل باڈی کے ارکان کی فہرست پیش کی گئی تھی، تاہم سال 2025-26 کے لیے ارکان کی رکنیت کی تصدیق کے سلسلے میں ضروری دستاویزی ثبوت اور اصل ریکارڈ پیش نہیں کیے گئے۔سید ندیم احمد نے کہا کہ اس معاملے میں ڈاکٹر اعظم میر خان کو آخری موقع دیتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خود یا اپنے نمائندے کے ذریعے 10 مارچ 2026 تک ادارے کے اصل ریکارڈ دفتر میں پیش کریں۔ اگر مقررہ مدت تک ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا تو دفتر میں موجود دستاویزات کی بنیاد پر جنرل باڈی کے ارکان کی رکنیت کی درستگی کا تعین کر کے انتخابی عمل مکمل کر لیا جائے گا، جس کی تمام ذمہ داری متعلقہ فریق پر عائد ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایکٹ کی دفعہ 4B کے تحت جب تک جنرل باڈی کے ارکان کی رکنیت کا حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا، اس وقت تک سابق معتمدِ عمومی ڈاکٹر اعظم میر خان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عبوری انتظامی کمیٹی کے انتخابات سے متعلق کوئی کارروائی انجام نہ دیں۔پریس کانفرنس میں سید ندیم احمد، محمد اسلم، سید ماجد ودیگر موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande