
کھرگون، 11 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے کھرگون ضلع کے بڑواہ کے سناود تھانہ علاقے میں بدھ کو ایک دردناک حادثے میں نوزائیدہ سمیت تین بچوں کی کنویں میں ڈوبنے سے موت ہو گئی۔ واقعہ بھومواڑہ اور ملگاوں کے درمیان واقع ایک کھیت کے کنویں کا ہے۔ اس حادثے سے پورے علاقے میں سوگ کا ماحول ہے۔
پولیس کے مطابق، ڈیہریہ کا رہنے والا کالو سنگھ گزشتہ 8–10 دنوں سے اپنے خاندان کے ساتھ ملگاوں میں بلیرام بھوموریا کے کھیت پر مزدوری کر رہا تھا۔ بدھ کی صبح کالو سنگھ کام پر چلا گیا تھا، جبکہ گھر پر اس کی بیوی نانی بائی اپنے تین بچوں ارجن (تقریباً 4.5 سال)، کرن (تقریباً 2.5 سال) اور 20 دن کے نوزائیدہ بچے کے ساتھ تھی۔ اسی دوران صبح گاوں میں خبر پھیلی کہ نانی بائی اور اس کے تینوں بچے کھیت کے کنویں میں گر گئے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی گاوں والے موقع پر پہنچے اور کنویں میں رسی ڈال کر نانی بائی کو بحفاظت باہر نکال لیا۔ تاہم تب تک تینوں بچے پانی میں ڈوب چکے تھے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی والد کالو سنگھ بھی موقع پر پہنچ گئے۔ سناود پولیس بھی اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچی۔ گاوں والوں کی مدد سے صبح تقریباً 11 بجے تینوں بچوں کی لاشیں کنویں سے باہر نکالی گئیں۔ اس کے بعد پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے سناود سول اسپتال بھیج دیا۔ ملگاوں کے سرپنچ اوم پٹیل کے مطابق، بھومواڑہ میں واقع یہ کنواں تقریباً 30 فٹ گہرا ہے اور اس میں تقریباً 11 فٹ پانی بھرا ہوا ہے۔ کنویں میں اترنے کے لیے سیڑھیاں بھی بنی ہوئی ہیں۔
گاوں والوں کے مطابق، ارجن اور کرن گھر کے باہر کھیل رہے تھے۔ کافی دیر تک دونوں بچے نظر نہیں آئے تو ماں نانی بائی انہیں ڈھونڈتے ہوئے کنویں کے پاس پہنچی۔ وہاں پانی میں بچوں کی لاشیں نظر آنے پر گھبرا کر وہ اپنے 20 دن کے نوزائیدہ کو گود میں لے کر کنویں میں کود گئی۔ گاوں والوں نے رسی کے سہارے اسے باہر نکال لیا، جس سے اس کی جان بچ گئی، لیکن تینوں بچوں کو نہیں بچایا جا سکا۔ تاہم یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ خاتون نانی بائی نے خود ہی اپنے دو سالہ بیٹے ارجن اور چار سالہ بیٹے کرن کو کھیت میں بنے کنویں میں پھینک دیا۔ اس کے بعد وہ خود بھی نوزائیدہ بچے کو لے کر کنویں میں کود گئی۔ نانی بائی تیرنا جانتی تھی۔ اس نے کنویں کے اندر موجود رسی اور سیڑھی کا سہارہ لے کر کسی طرح باہر نکلنے میں کامیابی حاصل کر لی، لیکن تینوں معصوم بچوں کی پانی میں ڈوبنے سے موت ہو گئی۔ واقعے کی سچائی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آ سکے گی۔
کھرگون ایس پی رویندر ورما نے بتایا کہ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ تمام پہلووں پر غور کیا جا رہا ہے اور پوچھ گچھ کے بعد ہی واقعے کی صحیح وجوہات کا پتہ چل سکے گا۔ اس دل دہلا دینے والے حادثے سے گاوں میں ماتم چھا گیا ہے اور ہر کوئی تین معصوموں کی موت سے سکتے میں ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن