امریکہ نے کہا - آبنائے ہرمز بند ہوا تو ایران پر قہر برپے گا
امریکہ نے کہا - آبنائے ہرمز بند ہوا تو ایران پر قہر برپے گا واشنگٹن، 10 مارچ (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے درمیان پیر کی رات بڑا اعلان کیا۔ انہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز بند کرنے کے خلاف قہر برپانے کی وارننگ دی۔ آب
صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران پر حملے شروع کرنے کے بعد اپنی پہلی سرکاری پریس کانفرنس سے میامی-ایریا گولف کلب میں خطاب کرتے ہوئے۔ فوٹو: سی بی ایس نیوز


امریکہ نے کہا - آبنائے ہرمز بند ہوا تو ایران پر قہر برپے گا

واشنگٹن، 10 مارچ (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے درمیان پیر کی رات بڑا اعلان کیا۔ انہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز بند کرنے کے خلاف قہر برپانے کی وارننگ دی۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی صنعت کے لیے آمد و رفت کا ایک ضروری ذریعہ ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے تیل کی ترسیل تقریباً ٹھپ ہو چکی ہے، جس سے جنگ شروع ہونے کے بعد سے تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے ٹروتھ سوشل پر کہا، ’’اگر ایران کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے اندر تیل کی ترسیل رک جاتی ہے تو امریکہ اب تک ہونے والے حملوں سے 20 گنا طاقتور حملہ کرے گا۔ اس سے ایران کا بطور ملک دوبارہ بننا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ وہاں صرف آگ ہوگی۔ اس کے باوجود میں امید کرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو۔‘‘

صدر ٹرمپ نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے شروع کرنے کے بعد پیر کی رات اپنی پہلی سرکاری پریس کانفرنس میں، میامی-ایریا گولف کلب میں کئی بار ایران کو دھمکی دی کہ اگر وہ آبنائے ہرمز کو روکتا ہے تو وہ اس پر حملے بڑھا دیں گے۔ انہوں نے سی بی ایس نیوز سے کہا کہ وہ اس آبی گزرگاہ پر کنٹرول کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا، ’’میں لڑکیوں کے اسکول پر بمباری کی آخری رپورٹ کا انتظار کر رہا ہوں۔‘‘

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا، ’’مجھے بتایا گیا کہ اس کی جانچ چل رہی ہے، لیکن ٹوما ہاکس کا استعمال دوسرے ملک اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ کئی ملکوں کے پاس ٹوما ہاکس ہیں۔ وہ ہم سے خریدتے ہیں۔ آخری جانچ رپورٹ کو وہ قبول کریں گے۔‘‘ اس سے پہلے ہفتہ کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ یہ لڑکیوں کے اسکول پر بمباری ایران نے خود کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے نئے لیڈر کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب سے مایوس ہیں، مگر یہ ایران کا اندرونی معاملہ ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ اس ہفتے ختم نہیں ہوگی، لیکن ’’جلد‘‘ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اس جنگ میں ایران پر 5000 سے زیادہ مقامات پر درست نشانے والے حملے کیے ہیں۔ امریکہ چاہے تو وہ کبھی بھی ایران کے بجلی گھروں (پاور پلانٹس) کو تباہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ میں امریکی مداخلت کے بغیر اسرائیل ’’ختم‘‘ ہو جاتا۔

انہوں نے یہ بھی وارننگ دی کہ اگر ایران کی فوج تیل کے ٹینکروں کو روکتی ہے تو اسے اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس لڑائی میں امریکہ کے کھڑے ہونے پر انہیں فخر ہے۔ ہماری فوجی مہم اپنے مقصد کو پورا کرنے کی سمت کے اہم پڑاو پر پہنچ چکی ہے۔ یہ خلیج فارس اور عمان کی خلیج کے درمیان واقع انتہائی تنگ اور اسٹریٹجک سمندری گزرگاہ ہے۔ یہ ایران (شمال میں) اور عمان/متحدہ عرب امارات (جنوب میں) کو الگ کرتا ہے۔

یہ دنیا میں تیل کی ترسیل کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ یہاں سے عالمی سمندری تیل کا تقریباً 20 سے 30 فیصد حصہ ہر روز گزرتا ہے۔ یہ عمان کے جزیرہ نما مسندم اور ایران کے درمیان تقریباً 39 کلومیٹر (24 میل) چوڑی آبی گزرگاہ ہے۔ سعودی عرب، ایران، کویت، عراق اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک سے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمد اسی راستے سے ہوتی ہے۔ یہ عالمی معیشت کے لیے بے حد اہم ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھاری اچھال آنے کا امکان رہتا ہے۔

ہندوستان اپنی توانائی کی ضرورتوں کا بڑا حصہ (تقریباً دو تہائی تیل) اسی راستے سے درآمد کرتا ہے۔ اس لیے یہ ہندوستان کی توانائی کی حفاظت کے لیے بے حد اہم ہے۔ یہ علاقہ تاریخی طور پر جغرافیائی سیاسی تناو کا مرکز رہا ہے، جہاں ایرانی اور امریکی بحریہ کے درمیان اکثر آمنا سامنا ہوتا رہتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande