
سِنتھیٹِک ڈرگ (مصنوعی ادویات ) سڑکوں پر نہیں بنائی جاتیں۔ ان کی ابتداء اس سے کہیں پہلے ایسے کارخانوں ، گوداموں اور سامان لے جانے والے ان کنٹینروں میں ہوتی ہے جہاں روزانہ کیمیاوی مادّے سرحدوں کے پار بھیجے جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے کیمیاوی مادّوں کو قانونی حیثیت حاصل ہے اور ان کا استعمال دواسازی سمیت دیگر صنعتوں میں بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔ مگر جب یہی چیزیں اسمگلروں کے ہاتھ لگ جاتی ہیں تو ایسی مصنوعی ادویات کی بنیاد بن جاتی ہیں جو معاشروں اور عوامی صحت کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہیں۔ ڈرگ انفورسمینٹ ایڈمنسٹریشن (ڈی ای اے ) میں معاون خصوصی ایجنٹ کے عہدے پر فائز کیٹی ڈورائس وضاحت کرتی ہیں کہ ایسے کیمیاوی مادّوں کی نگرانی اور ان پر قابو پانا کیوں امریکی حکومت کے لیے ایک ترجیحی چیز ہے۔ ڈی ای اے ، جو وفاقی قانون نافذ کرنے والا ایک ادارہ ہے، اسمگلروں کو ان کیمیاوی مادّوں کو نقصاندہ منشیات میں تبدیل کرنے سے روکنے کے لیے کام کرتا ہے۔
آخر یہ خام کیمیاوی جزو کیا ہیں؟ ڈورائس بتاتی ہیں ’’ یہ اصل میں وہ بنیادی اجزاء ہوتے ہیں جنہیں ایمفیٹامین اور فینٹانِل جیسی کنٹرولڈ منشیات کو غیر قانونی طور پر تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ ‘‘ ان میں سے بہت سے کیمیاوی مادّوں کے جائز اور قانونی استعمال بھی موجود ہیں۔
مسئلے کی نوعیت نہایت سنگین اور تشویش ناک ہے۔ وہ کہتی ہیں ’’2024 میں ڈی اے اے نے فینٹانِل سے آلودہ 60 ملین سے زائد نقلی گولیاں اور تقریباً 8000 پاؤنڈ فینٹانِل پاؤڈر ضبط کیا ۔ ضبط شدہ کیمیاوی مادّے 380 ملین سے زیادہ مہلک خوراک کے مساوی ہیں۔ ‘‘
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ امریکی حکومت بنیادی کیمیاوی اجزاء پر کنٹرول کو محض ضابطہ جاتی مسئلہ نہیں بلکہ عوامی سلامتی کا معاملہ کیوں سمجھتی ہے۔
2025 کے اواخر میں ڈی اے اے نے فینٹا نِل سے پاک امریکہ کے عنوان سے ایک قومی مہم شروع کی جس کا مقصد فینٹانِل کی رسد اور طلب دونوں پر قابو پانا ہے۔
ڈورائس کے مطابق’’ ڈی ای اے امریکی جانوں اور طبقات کو فینٹا نِل کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے پُر عزم ہے ۔ فینٹانِل سے پاک امریکہ اصل میں روک تھام ، تعلیم اور شراکت داری پر مبنی ایک کوشش ہے۔ ‘‘
کیمیاوی مادّوں کی فراہمی کا تسلسل توڑنا
چو ں کہ ان کیمیاوی مادّں کے قانونی استعمال بھی ہوتے ہیں ، اس لیے ان کے اسمگلر کھلے عام نظروں کے سامنے رہتے ہوئے بھی پوشیدہ رہتے ہیں۔ ڈورائس اس سلسلے میں ایک عام طریقہ کار کی جانب اشارہ کرتی ہیں جسے ’ ٹرانس شِپمنٹ ‘ کہا جاتا ہے۔ وہ بتاتی ہیں ’’ اس نظام میں در آمد اور بر آمد سے متعلق ایسی قانونی کمزوریاں موجود ہیں جن کا مقابلہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث گروہ کمزور نگرانی والی بندرگاہوں کے ذریعہ کیمیاوی مادّے منتقل کرتے ہیں اور پھر انہیں آگے روانہ کر دیتے ہیں ۔ اس عمل سے ابتدائی طور پر برآمد کنندہ ملک کے لیے کاغذی ریکارڈ بظاہر صاف نظر آتا ہے۔
ڈی ای اے کے لیے اس مرحلے پر کیمیاوی مادّوں کا غلط رخ پر موڑے جانے کو روکنا نہایت اہم ہوتا ہے۔ ڈورائس کہتی ہیں ’’ ڈی ای اے ابتدائی کیمیاوی اجزاء کے کنٹرول کو ترجیح دیتی ہے تاکہ منشیات کے اسمگلر وں کے لیے نشہ آور مادّے تیار کرنے کے لیے خام مال حاصل کرنا مشکل ہو جائے۔ ‘‘
ڈورائس وضاحت کرتی ہیں ’’ یہاں ایک اور عام حربہ کام کرتا ہے اور وہ ہے غلط بیانی جس میں کیمیاوی مادّوں کی منتقلی کی اصل نوعیت اور منزل کو چھپایا جاتا ہے۔ ابتدائی کیماوی اجزاء آن لائن خریدے جاتے ہیں اور درآمد یا برآمد کے دوران انہیں غلط طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔ ‘‘
اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ڈی ای اے کمپنیوں کے ساتھ ’ اپنے گاہک کو جانیں‘ کے اصول پر کام کرتی ہے۔ ڈورائس بتاتی ہیں ’’ کے وائی سی کا اصول اس بنیاد پر قائم ہے کہ کیمیاوی مادّے یا دوا سازی کی کمپنی پالیسیاں نافذ کرے تاکہ معروف بنیادی کیماوی اجزاء کی فروخت صرف جائز گاہکوں تک محدود رہے۔‘‘
سائنسی تجزیہ بھی ابھرتے ہوئے خطرات کی شناخت میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ڈورائس کہتی ہیں ’’ ڈی ای اے کا تجربہ گاہ نظام امریکہ میں مصنوعی منشیات کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہا ہے۔ یہ ضبط شدہ کیمیاوی مادّوں جیسے پاؤڈر ، مانع اور گولیوں کا تجزیہ کرتا ہے۔ گذشتہ برسوں کے دوران ڈی ای اے نے بنیادی کیمیاوی اجزاء کے دستخط ، ترکیب کے طریقے، نجاست کے پروفائلس اور ابھرتے ہوئے متبادل کیمیاوی مادّوں کا ایک شاندار ڈیٹا بیس تیار کیا ہے۔‘‘اصل میں حکومتوں کو اسمگلروں کی بدلتی ہوئی حکمت عملیوں کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑتا ہے ۔ ڈورائس کہتی ہیں ’’ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینا لیٹکس ایسے طاقتور اوزار ہیں جو بنیادی کیمیاوی اجزاء کے غلط رخ موڑنے کی شناخت کرنے میں مدد کرتے ہیں ۔ ‘‘ڈیٹا اینالیٹکس کسی بھی ایجنسی کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ خریداری کے حجم، سمندری راستے سے اس کے نقل وحمل کی معلومات ، درآمد اور برآمد کے ڈیٹا جیسے غیر معمولی رجحانات کی شناخت کرسکے۔ یہ اوزار محققین کو یہ سہولت فراہم کرتے ہیں کہ وہ حقیقی وقت میں بڑے خطرے والے نقل و حمل پر الرٹ جاری کرسکیں یا کسی کمپنی کی نگرانی کرسکیں جو غیر معمولی منزل پر بڑی مقدار میں ابتدائی کیمیاوی اجزاء فروخت کررہی ہوں۔
ہندوستان کے ساتھ مسئلے کے حل کے لیے کام کرنا
ڈی ای اے ہندوستان کے ساتھ تعاون کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ ڈورائس کہتی ہیں ’’ ہندوستان بنیادی کیمیاوی اجزاء کے پیدا کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے ، اس لیے اس کے ساتھ شراکت داری ضروری ہے۔ ‘‘ وہ وضاحت کرتی ہیں ’’ ڈی ای اے ہندوستان کی سینٹرل ریونیو کنٹرول لیباریٹری (سی آر سی ایل ) کے ساتھ مل کر بنیادی کیمیاوی اجزاء اور مصنوعی منشیاتی افیونی مادّ وں کی شناخت پر کام کررہی ہے۔
ڈی ای اے کا نئی دہلی میں واقع دفتر ہندوستان کے نارکوٹِکس کنٹرول بیورو، ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جینس اور سینٹرل بیورو آف نارکوٹِکس کے ساتھ بھی قریبی تعاون کرتا ہے تاکہ معلومات کا تبادلہ اور مشترکہ تحقیقات کی حمایت ممکن ہوسکے۔
اگست 2025 میں ڈی ای اے نے امریکی ریاست ورجینیا کے اسٹرلنگ میں واقع اسپیشل ٹیسٹنگ اینڈ ریسرچ لیباریٹری کے دو کیمسٹ ہندوستان بلائے تاکہ کیمیاوی مادّوں کے تجزیے اور بہترین عملی طریقوں پر ہندوستانی ہم منصبوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جاسکے۔ ڈی ای اے 2026 سی آر سی ایل کے ساتھ مزید پروگراموں کا منصوبہ رکھتی ہےتاکہ منشیات کے ابھرتے ہوئے رجحانات پر نظر رکھی جاسکے اور معلومات کا تبادلہ جاری رکھا جا سکے۔
یہ تعاون، جس کی پشت پناہی امریکی سرکاری پروگراموں اور سفارتی تعلقات کی بدولت ممکن ہوتی ہے، نگرانی کو مضبوط بناتا ہے اور قانونی تجارت کی حمایت بھی کرتا ہے۔ روک تھام، نگرانی، اور شراکت داری پر توجہ مرکوز کر کے، ڈی ای اے کا مقصد خطرناک منشیات کو امریکی معاشروں تک پہنچنے سے پہلے روکنا ہے۔
از: چاروی اروڑا
بشکریہ: اسپَین میگزین
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد