یہ ہم طے کریں گے کہ جنگ کب ختم ہو گی، پاسداران انقلاب کا ٹرمپ کے بیان پر جواب
واشنگٹن،10مارچ( ہ س)۔ایرانی پاسداران انقلاب نے تنازع کے خاتمے کے وقت سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کب ختم ہو گی .. یہ ہم طے کریں گے۔ منگل کے روز ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی نے کہا کہ وہ
یہ ہم طے کریں گے کہ جنگ کب ختم ہو گی، پاسداران انقلاب کا ٹرمپ کے بیان پر جواب


واشنگٹن،10مارچ( ہ س)۔ایرانی پاسداران انقلاب نے تنازع کے خاتمے کے وقت سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کب ختم ہو گی .. یہ ہم طے کریں گے۔ منگل کے روز ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں امریکی بیڑے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں، ساتھ ہی انہوں نے خطے میں تیل کی برآمدات کے تحفظ کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ’اگر امریکی اور اسرائیلی حملے جاری رہے تو تہران خطے سے تیل کا ایک لیٹر بھی برآمد کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔‘یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس موقف کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے پیر کے روز کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ایک مختصر مدت کا سفر ہوگی۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ جنگ اپنے خاتمے کے قریب ہے لیکن اس ہفتے نہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ جنگ میں سب سے بڑا خطرہ ابتدائی دنوں میں تھا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کارروائیاں’دشمن کی مکمل اور فیصلہ کن شکست تک‘ جاری رہیں گی۔امریکی صدر نے ایران کو دھمکی بھی دی کہ اگر اس نے تیل کی سپلائی میں رکاوٹ ڈالی تو اسے ایک بڑے حملے کا نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا میں ایک دہشت گرد نظام کو اس بات کی اجازت نہیں دوں گا کہ وہ دنیا کو یرغمال بنائے اور دنیا کو تیل کی سپلائی روکنے کی کوشش کرے۔ اگر ایران نے ایسا کچھ بھی کیا تو اسے کہیں زیادہ شدید ضرب کا سامنا کرنا پڑے گا۔مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ’آبنائے ہرمز محفوظ رہے گا‘۔ انھوں نے اشارہ کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی افواج آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نگرانی اور ہمراہی کر سکتی ہیں۔ڈیٹا تجزیاتی گروپس کی رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو تہران پر شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں جب سے ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کیا ہے، آبنائے ہرمز یا اس کے قریب لگ بھگ 10 جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔جنگ کے آغاز کے بعد پورے ہفتے جاری رہنے والے ان حملوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی نقل و حرکت تقریباً مکمل طور پر رک گئی ہے، جو کہ تیل اور دیگر اشیاءکی نقل و حمل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande