
لداخ, یکم مارچ (ہ س)ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ امام خامنہ ای کے مبینہ قتل کی خبر کے بعد ضلع کرگل میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے جبکہ مساجد اور امام بارگاہوں میں خصوصی تعزیتی مجالس کا انعقاد کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق صبح سویرے جیسے ہی خبر عام ہوئی، ضلع کے مختلف علاقوں میں تعزیتی اجتماعات منعقد ہوئے۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے جمع ہو کر مرحوم رہنما کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا اور جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔
امام خامنہ ای ٹرسٹ (آئی کے ایم ٹی) کے رضاکاروں نے اپنے ذیلی ونگ بسیج امام کے تحت حسینی پارک کو سیاہ پرچموں اور کپڑوں سے ڈھانپ کر سوگ کی علامت قائم کی۔ اسی طرح جمعیتِ العلماء اثنا عشریہ کرگل کے انتظام میں انقلاب منزل کو بھی سیاہ پوش کیا گیا۔ اس دوران بعض شرکاء نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔
ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ محمد حسین لطفی اور شیخ محمد محقق نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے مرحوم رہنما کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ محض ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک فکری تحریک تھے جس کا مشن جاری رہے گا۔
بعد ازاں ہزاروں سوگوار جلوس کی صورت میں کرگل شہر میں داخل ہوئے، ہاتھوں میں مرحوم رہنما کی تصاویر اٹھائے نوحہ خوانی اور روایتی عزاداری کرتے رہے۔ اگرچہ حسینی پارک میں اجتماع کے لیے انتظامات کیے گئے تھے، تاہم غیر معمولی ہجوم کے باعث حسینی پارک روڈ اور ملحقہ سڑکوں پر رش بڑھ گیا۔
مرکزی تعزیتی اجتماع میں متعدد مذہبی و سماجی شخصیات نے شرکت کی،
الحاج اصغر علی کربلائی نے اس موقع پر سات روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دو روز تک جلوس عزا جاری رہیں گے جبکہ جامع مسجد کرگل میں چالیس روز تک تعزیتی مجالس منعقد کی جائیں گی۔تقریب کے اختتام پر شیخ محمد حسین لطفی نے اہلِ ضلع سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ دینی رہنمائی کے امور میں مقلدین فی الحال عظیم مرجع آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی یا آیت اللہ مکارم شیرازی کے فتاویٰ کے مطابق عمل جاری رکھ سکتے ہیں، جب تک متعلقہ مذہبی اداروں کی جانب سے مزید ہدایات جاری نہ ہوں۔دن بھر کرگل سوگ کی فضا میں ڈوبا رہا جبکہ مذہبی و سماجی قائدین نے عوام سے اتحاد اور صبر و تحمل کی اپیل کی۔
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر