
تہران/تل ابیب/واشنگٹن، یکم مارچ (ہ س)۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ہلاکت نے پوری دنیا میں صدمے کی لہر دوڑادی ہے۔ ایران کے وزیر دفاع اور پاسداران انقلاب کے سربراہ کے ساتھ خامنہ ای کی ہلاکت پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خامنہ ای کو عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کو قتل کرنے والوں نے انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ چین نے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ اس پیش رفت کے درمیان آیت اللہ علی رضا کو ایران کا عبوری سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔ حملے کے دوسرے روز بھی فریقین کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی دھمکی کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے ایسا کرنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا حملہ بے مثال ہوگا۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں مارے گئے۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آی بی نے اتوار کی صبح کہا کہ خامنہ ای اس حملے میں شہید ہو گئے۔ حملے میں خامنہ ای کی بیٹی، پوتا، بہو اور داماد بھی مارے گئے۔ اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی فوجی افسران کی شناخت ظاہر کر دی ہے۔ ان میں اعلیٰ فوجی افسر علی شمخانی اور آئی آر جی سی کمانڈر محمد پاکپور شامل ہیں۔ آئی ڈی ایف نے کہا کہ حملے میں ایران کے ملٹری ایمرجنسی ہیڈ کوارٹر کے انٹیلی جنس چیف صلاح اسدی اور ایک اعلیٰ فوجی افسر محمد شیرازی بھی مارے گئے۔ خامنہ ای کی وفات کے اعزاز میں 40 روزہ سرکاری سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
1989 میں آیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد، جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے پہلے سپریم لیڈر بنے، آیت اللہ علی خامنہ ای ملک کے دوسرے سپریم لیڈر منتخب ہوئے۔ وہ 28 فروری 2026 کو اپنی وفات تک ساڑھے 36 سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھ کر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے سے آگاہ کیا ہے۔ عراقچی نے کہا کہ اس حملے کے جواب میں اسلامی جمہوریہ ایران اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے داخلی اور قانونی حق کا استعمال کر رہا ہے۔
اسرائیلی امریکی حملے میں اپنے سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ہمیں بدلہ لینے کا پورا حق حاصل ہے۔ یہ مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ خامنہ ای کا قتل اسلامی ممالک کے لیے امتحان کی گھڑی ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ ایران اسلامی جمہوریہ کی تاریخ کا سب سے خطرناک حملہ کرنے والا ہے۔
ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی دھمکی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا - ایران نے کہا ہے کہ وہ آج ایک بہت طاقتور حملہ کرے گا، جو اس سے پہلے کبھی نہیں کیا گیا ہے، لیکن یہ بہتر ہوگا کہ وہ ایسا نہ کریں کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ہم ان پر ایسی طاقت سے حملہ کریں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہوگا۔
خامنہ ای اور ان کے خاندان کے متعدد افراد کے قتل کے بعد، اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے اتوار کی صبح متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی پر ایک فضائی حملہ کیا۔ حملے میں جبل علی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ایک بڑے حصے کو نقصان پہنچا۔ اسی طرح کے دھماکے قطر کے شہر دوحہ میں بھی ہوئے۔
دریں اثنا، مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، ایران نے اتوار کی سہ پہر پلاو¿ کے جھنڈے والے آئل ٹینکر اسکائی لائٹ پر حملہ کیا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب ٹینکر عمان کے ساحل سے آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا۔ عملے کے تمام 20 ارکان بشمول 15 ہندوستانی اور پانچ ایرانی شہریوں کو نکال لیا گیا۔ عملے کے چار ارکان زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لیے لے جایا گیا۔
خامنہ ای کی وفات کے بعد آیت اللہ علی رضا کو ایران کا عبوری سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ علیرضا اس وقت گارڈین کونسل کے رکن ہیں۔ وہ صدر مسعود پیزشکیان اور چیف جسٹس کے ساتھ ملک کی قیادت کریں گے، جب تک ماہرین کی اسمبلی نئے، مستقل سپریم لیڈر کا انتخاب نہیں کرتی۔
عالمی ردعمل: روس اور چین نے خامنہ ای کی موت پر ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے بات کرتے ہوئے خامنہ ای کو عظیم رہنما قرار دیا۔ روسی صدر نے کہا کہ خامنہ ای کو قتل کرنے والوں نے انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی۔
چین نے کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکہ اور اسرائیل کا حملہ غلط ہے اور اس ایکٹ کو مسترد کرتا ہے۔
پاکستان کے شہر کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر ایران پر امریکی اسرائیلی حملے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کے ہجوم پر امریکی سیکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں سے چوکس رہنے کی اپیل کی ہے۔
ہندوستان میں بھی امریکی اسرائیلی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی ہلاکت نے شیعہ برادری میں بڑے غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ کرگل، لداخ، لکھنو¿، بجنور اور دیگر شہروں سمیت ملک کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں شیعہ مسلمان سڑکوں پر نکل آئے اور دارالحکومت دہلی میں بھی مظاہرہ کیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی