بھوپال میں ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی موت پر ماتم، امریکہ-اسرائیل کے خلاف نعرے لگے
بھوپال، یکم مارچ (ہ س)۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی خبر کے بعد دارالحکومت بھوپال میں شیعہ برادری نے تعزیتی اجلاس اور جلوس نکال کر اپنا احتجاج درج کرایا۔ کروند میں واقع شیعہ مسجد میں اتوار کو ظہر کی نماز کے بعد مجلس کا انعقا
بھوپال میں ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی موت پر ماتم، امریکہ-اسرائیل کے خلاف نعرے لگے


بھوپال، یکم مارچ (ہ س)۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی خبر کے بعد دارالحکومت بھوپال میں شیعہ برادری نے تعزیتی اجلاس اور جلوس نکال کر اپنا احتجاج درج کرایا۔ کروند میں واقع شیعہ مسجد میں اتوار کو ظہر کی نماز کے بعد مجلس کا انعقاد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد جلوس بھی نکالا گیا۔ اس دوران لوگوں نے ’’امریکہ مردہ باد‘‘، ’’اسرائیل مردہ باد‘‘، ’’خامنہ ای زندہ باد‘‘، ’’اللہ اکبر‘‘ اور ’’یا حسین‘‘ کے نعرے لگائے۔ برادری کے لوگوں نے اسے شہادت قرار دیتے ہوئے گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کیا۔

مجلس سے خطاب کرتے ہوئے امام باقر حسین نے کہا کہ خامنہ ای ایسی شخصیت تھے، جنہوں نے ہمیشہ ظلم اور زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی اور مظلوموں کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی نظریے کو کسی ایک شخص کے جانے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ امام نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہادت کسی مشن کو کمزور نہیں کرتی، بلکہ اسے مزید مضبوط بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خامنہ ای کی موت سے امت مسلمہ خود کو یتیم محسوس کر رہی ہے، لیکن انقلاب کی راہ آگے بھی جاری رہے گی۔ ساتھ ہی لوگوں سے صبر اور یکجہتی بنائے رکھنے کی اپیل کی۔

کروند علاقے میں واقع مسجد آلِ محمد شیعہ جامع مسجد میں بھی تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ مسجد محمدی کے امام جمعہ سید اظہر حسین رضوی نے کہا کہ خامنہ ای نے کبھی فرقے یا ملت کی بنیاد پر تفریق نہیں کی۔ وہ ہمیشہ ظالم کے خلاف اور مظلوم کی حمایت میں کھڑے رہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کا تقاضا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جائے، جبکہ ظلم کی حمایت کرنا گناہ ہے۔ بھوپال میں منعقدہ ان پروگراموں کے ذریعے شیعہ برادری نے مرحوم رہنما کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یکجہتی کا پیغام دیا اور بین الاقوامی واقعات پر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande