
نئی دہلی، یکم مارچ (ہ س)۔حکومتِ ہند کی وزارتِ بجلی کے تحت قائم بیورو آف انرجی ایفیشینسی (بی ای ای) کے 25ویں یومِ تاسیس کی تقریب آج نئی دہلی کے انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر میں منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے اعلیٰ معززین، پالیسی سازوں، شراکت دار اداروں اور مختلف شعبوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
مرکزی وزیر برائے بجلی و رہائش و شہری امور جناب منوہر لال نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے تقریب کی رونق بڑھائی۔ سکریٹری (بجلی) جناب پنکج اگروال نے کلیدی خطاب پیش کیا۔ اس موقع پر مرکزی وزارتوں، ریاستی حکومتوں، اسٹیٹ ڈیزگنیٹڈ ایجنسیز (ایس ڈی اے ایس) اور شراکت دار اداروں کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔مشہور مقولے ”احتیاط علاج سے بہتر ہے“ کا حوالہ دیتے ہوئے جناب منوہر لال نے کہا کہ بیورو آف انرجی ایفیشینسی (بی ای ای) بجلی کے شعبے میں ایک احتیاطی ادارے کے طور پر کام کرتا ہے۔ آج بچائی جانے والی بجلی کی ہر اکائی اضافی بجلی پیدا کرنے کی ضرورت کو کم کرنے اور اخراج میں کمی لانے میں براہِ راست مدد دیتی ہے۔ توانائی کے مو¿ثر استعمال کو اپنانے کے ذریعے ہم نہ صرف ماحولیات کا تحفظ کرتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک صاف ستھرا اور پائیدار مستقبل بھی یقینی بناتے ہیں۔ انہوں نے ملک میں توانائی کی بچت سے متعلق اقدامات کو فروغ دینے میں بی ای ای کے نمایاں کردار کو بھی سراہا۔ منوہر لال نے موسمیاتی اہداف کے حصول اور قومی ترقی کے ایک بنیادی ستون کے طور پر توانائی کی کارکردگی کو مضبوط بنانے میں بھارت کی نمایاں پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت نے 2005 کی سطح کے مقابلے میں اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی اخراجی شدت میں 36 فیصد کمی کی ہے اور 2030 کے ہدف سے قبل ہی غیر فوسل ایندھن پر مبنی نصب شدہ صلاحیت کا تناسب 52 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔انہوں نے بی ای ای کی اہم اسکیموں کے تحت حاصل کی گئی نمایاں کامیابیوں کا بھی ذکر کیا، جن میں رینیوایبل کنزمپشن آبلیگیشن (ا?ر سی او)، پرفارم، اچیو اینڈ ٹریڈ (پی اے ٹی) اسکیم، کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ اسکیم (سی سی ٹی ایس) کی جانب منتقلی، کارپوریٹ ایوریج فیول ایفیشینسی (سی اے ایف ای)، ایم ایس ایم ایز کے لیے اڈیٹی (اے ڈی ای ای ٹی ا?ئی ای) اسکیم، اسٹینڈرڈز اینڈ لیبلنگ (ایس اینڈ ایل) پروگرام، انرجی کنزرویشن اینڈ سسٹین ایبل بلڈنگ کوڈ (ای سی ایس بی سی) اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں توانائی کی کارکردگی بڑھانے سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔آئندہ کے لائحہ عمل پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ توانائی کی موثر بچت وِکست بھارت @2047 کے ویڑن کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کی جانب بھی توجہ دلائی، جہاں موثر اور پائیدار توانائی نظم و نسق کے حل ناگزیر ہیں۔سکریٹری (بجلی) پنکج اگروال نے بھارت کے توانائی کے بدلتے منظرنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ بڑھتی ہوئی توانائی طلب، غیر فوسل ایندھن کی صلاحیت میں اضافہ اور تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ انہوں نے توانائی کی بچت کو بھارت کا ”پہلا ایندھن“ قرار دیتے ہوئے اسے توانائی کے تحفظ، کم لاگت فراہمی اور پائیداری کے درمیان توازن قائم کرنے کا اہم ذریعہ بتایا۔انہوں نے اسٹینڈرڈز اینڈ لیبلنگ (ایس اینڈ ایل) اور ای سی ایس بی سی کے ذریعے کولنگ ایفیشینسی، کاربن مارکیٹ اور اڈیٹی اسکیم کے ذریعے صنعتی شعبے میں کاربن کے اخراج میں کمی، توانائی کارکردگی مراکز کے قیام اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایندھن کی کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔اس سے قبل استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے بی ای ای کے ڈائریکٹر جنرل جناب کرشنا چندر پانیگراہی نے ادارے کے سفر پر روشنی ڈالی اور معیشت کے تمام شعبوں میں توانائی کی بچت کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔اس موقع پر بی ای ای کے قیام کے 25ویں سال میں داخلے کی یاد میں بی ای ای@25 لوگو باضابطہ طور پر جاری کیا گیا۔ یہ لوگو توانائی کی کارکردگی، پائیداری اور مستقبل پر مبنی جدت کے بنیادی اصولوں کی علامت ہے۔ اس کے ڈیزائن میں نمایاں طور پر ”@25“ کی علامت شامل کی گئی ہے جو اس سنگِ میل کی نشاندہی کرتی ہے، جبکہ بصری عناصر توانائی، ترقی اور ماحولیاتی ذمہ داری کی عکاسی کرتے ہیں۔ متحرک انداز اور رنگوں کی ترتیب تسلسل، اثر انگیزی اور بھارت کی توانائی منتقلی میں بیورو کے ارتقائی کردار کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ یادگاری لوگو سال بھر سرکاری ابلاغ، آگاہی مہمات، اشاعتوں اور عوامی بیداری اقدامات میں استعمال کیا جائے گا اور 25ویں سال کی تقریبات کی بصری شناخت کے طور پر بی ای ای کے قومی ترجیح کے طور پر توانائی کی بچت کے عزم کو مزید مضبوط بنائے گا۔تقریب کے دوران خصوصی طور پر تیار کردہ بی ای ای سفر پر مبنی ویڈیو پیش کی گئی، جس میں گزشتہ 24 برسوں کے دوران ادارے کے ارتقا، اہم سنگِ میلوں، نمایاں پروگراموں، ادارہ جاتی شراکت داریوں اور بھارت میں توانائی کی کارکردگی کے نظام کو مضبوط بنانے میں اس کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔تقریب کے دوران بی ای ای کے سابق ڈائریکٹر جنرلز کے ساتھ ایک خصوصی غیر رسمی مکالمہ بھی منعقد کیا گیا، جس کی نظامت ڈاکٹر ستیش کمار، صدر و ایگزیکٹو ڈائریکٹر، الائنس فار انرجی ایفیشینٹ اکانومی نے کی۔ ریاستی نامزد ایجنسیوں کے ریٹائرڈ افسران کو ریاستی سطح پر توانائی کے تحفظ کے اقدامات کو فروغ دینے میں ان کی لگن، خدمات اور نمایاں کردار کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا گیا۔25ویں یومِ تاسیس کی اس تقریب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بی ای ای پائیدار ترقی، قومی توانائی تحفظ اور ماحولیاتی ذمہ داری کے فروغ کے لیے توانائی کی کارکردگی کو ایک مو¿ثر محرک کے طور پر آگے بڑھاتا رہے گا اور ایک ترقی یافتہ اور خود کفیل بھارت کی راہ ہموار کرے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan