سپریم کورٹ کا ہائی کورٹس میں زیر التوا ضمانت کی درخواستوں پر اظہار تشویش
نئی دہلی، 4 فروری (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے مختلف ہائی کورٹس میں زیر التواء بڑی تعداد میں ضمانت کی درخواستوں پر برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ یہ بہت افسوسناک ہے کہ ذاتی آزادی کے معاملات کی بھی اتنی تاخیر سے سماع
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹس میں زیر التوا ضمانت کی درخواستوں پر تشویش کا اظہار کیا


نئی دہلی، 4 فروری (ہ س)۔

سپریم کورٹ نے مختلف ہائی کورٹس میں زیر التواء بڑی تعداد میں ضمانت کی درخواستوں پر برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ یہ بہت افسوسناک ہے کہ ذاتی آزادی کے معاملات کی بھی اتنی تاخیر سے سماعت ہو رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرار جنرلز کو ہدایت کی کہ وہ زیر التواء پیشگی اور باقاعدہ ضمانت کی درخواستوں پر اسٹیٹس رپورٹس پیش کریں۔

سپریم کورٹ نے امید ظاہر کی کہ تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس ضمانت کی درخواستوں کو مقررہ وقت کے اندر نمٹانے کے لیے لائحہ عمل تیار کریں۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ پٹنہ ہائی کورٹ میں عرضیاں دائر کی جا رہی ہیں جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ضمانت کی درخواستوں کو درج نہیں کیا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے کہ ضمانت کی درخواستوں کو جلد نمٹانے کے سپریم کورٹ کے حکم کا کوئی حقیقی اثر نہیں ہو رہا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہر ہائی کورٹ کا چیف جسٹس ماسٹر آف روسٹر ہوتا ہے، لیکن اب سپریم کورٹ کو گائیڈ لائنز جاری کرنا پڑ سکتی ہیں۔

یہ مقدمہ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ سے متعلق ہے، جہاں طویل عرصے سے زیر التوا ضمانت کی درخواستوں کی شکایات ہیں۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو کئی چارٹ دکھائے اور وضاحت کی کہ مئی 2025 سے اب تک متعدد بار ضمانت کی درخواستیں ملتوی کی جا چکی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande