
نئی دہلی، 4 فروری (ہ س)۔ پارلیمنٹ کے احاطے میں اس وقت سیاسی ماحول گرم ہو گیا،جب بدھ کو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور کانگریس کے سابق رہنما اور مرکزی وزیر مملکت رونیت سنگھ بٹو کے درمیان تلخ نوک جھونک ہو گئی ۔ دونوں رہنماو¿ں نے ایک دوسرے کے خلاف تلخ الفاظ کا استعمال کیا۔ راہل گاندھی نے بٹو کو ”غدار“ کہا، جب کہ بٹو نے جواب میں انہیں ”ملک کا دشمن“ قرار دیا۔
یہ واقعہ پارلیمنٹ کے مکر دوار کے باہر پیش آیا، جہاں کانگریس ممبران پارلیمنٹ کی معطلی کے خلاف پارٹی کے ایم پی احتجاج کر رہے تھے۔ راہل گاندھی معطل ممبران پارلیمنٹ ، جن میں زیادہ تر پنجاب سے تھے، ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مکر دورا کے پاس کھڑے تھے ۔اسی دوران مرکزی وزیر مملکت رونیت سنگھ بٹو وہاں سے گزر رہے تھے۔
عینی شاہدین اور منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو کے مطابق راہل گاندھی نے بٹو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،”دیکھو، ایک غدار یہاں گزر رہا ہے، اس کا چہرہ دیکھو۔“ اس کے بعد انہوں نے بٹو سے ہاتھ ملانے کی پیشکشکر تے ہوئے ”نمستے بھائی، میرے غدار دوست۔ فکر نہ کرو، تم واپس (کانگریس میں) آو¿ گے۔“
حالانکہ،روونیت سنگھ بٹو نے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا اور جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا”ملک کے دشمن...“۔ اس کے بعد دونوں رہنماو¿ں کے درمیان کچھ دیر تک تلخ بات چیت ہوتی نظر آئی۔
واقعہ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت روونیت سنگھ بٹو نے راہل گاندھی اور گاندھی خاندان پر سنگین الزامات عائد کئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور گاندھی خاندان نے پنجاب کو آگ میں جھونک دیا تھا اور گولڈن ٹیمپل پر گولیاں چلی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں سکھوں اور پنجابیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بٹو نے یہ بھی کہا کہ جب تک وہ کانگریس میں تھے، تب تک انہیں شہید کا پوتا کہا جاتا تھا، لیکن بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد ان کے خلاف ایسی اصطلاحیں استعمال کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی خود کو ملک کا مالک سمجھتے ہیں اور ہر روز فوج اورملک کے خلاف بولتے ہیں، اسی وجہ سے انہوں نے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا۔
اس واقعہ پر مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرردعمل دیتے ہوئے راہل گاندھی کی سخت تنقید کی۔ انہوں نے لکھا کہ رکن پارلیمنٹ اور قابل احترام سکھ رہنما سردار رونیت سنگھ بٹو کو ”غدار“ کہنا شرافت، شائستگی اور وقار کی تمام حدوں سے تجاوز کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی بنیاد کے کسی قابل احترام سکھ رہنما کو غدار کہنا نہ صرف ان کی ذاتی توہین ہے بلکہ پوری سکھ برادری کی توہین ہے۔
پارلیمنٹ کے احاطے میں ہونے والی جھڑپ کے بعد سیاسی بیان بازی تیز ہوگئی ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان الزام تراشی کا کھیل جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد