
واشنگٹن، 3 فروری (ہ س)۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن جیفری ایپسٹین کی تحقیقات میں بالآخر کانگریس کے سامنے ذاتی طور پر گواہی دینے پر راضی ہو گئے ہیں۔ کلنٹن نے یہ رضامندی ایوان میں کانگریس کے ووٹ کی توہین سے بچنے کے لیے دی ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ہاو¿س اوور سائیٹ کے چیئرمین جیمز کامر اس آخری منٹ کی رضامندی کی تحریک کو قبول کریں گے۔ دونوں نے اس سے پہلے کئی مہینوں تک گواہی دینے سے انکار کیا تھا۔
گذشتہ ہفتے امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے متعلق 30 لاکھ صفحات، ایک لاکھ 80 ہزار تصاویر، اور دو ہزار ویڈیوز منظر عام پر لائی گئیں۔
ان دستاویزات کی اشاعت نے امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے ایپسٹین نے ان کے خلاف سازش کی تھی۔اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین اور مصنف مائیکل وولف نے ’ڈونلڈ ٹرمپ کو الیکشن ہروانے کی سازش کی تھی--- تو اس سے واضح ہے، میرا اس آدمی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‘اس سے قبل ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام نے لکھا ہے کہ وہ جیفری ایپسٹین کے قریب نہیں تھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ’کبھی ایپسٹین کے جزیرے پر نہیں گئے۔‘
سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے جیفری ایپسٹین کے متعلق کانگریس کی تحقیقات میں گواہی دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔گذشتہ کئی ماہ سے دونوں ہاو¿س اوور سائیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر رہے تھے۔ آئندہ چند دنوں میں کانگریس میں بل اور ہیلری کی جانب سے کمیٹی کے سامنے پیشی سے انکار پر ان کے خلاف مجرمانہ توہین کی کارروائی پر رائے شماری ہونی تھی۔بل کلنٹن جیفری ایپسٹین کو جانتے تھے تاہم ان کا موقف رہا ہے کہ وہ ان کے جنسی جرائم سے لاپتا تھے اور انھوں نے دو دہائی قبل ہی ایپسٹین سے متعلقات منقطع کر لیے تھے۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے شائع کردہ ایپسٹین کے جزیرے کی تصاویر میں سے ایک میں بل کلنٹن ایک سوئمنگ پول میں دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک اور تصویر میں انھیں ایک ہاٹ ٹب میں اپنے سر کے پیچھے ہاتھ رکھ کر لیٹے دیکھا جا سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan