سرپنچ کے انتخاب میں حصہ لینے کے قابل بننے کے لیے باپ بنا حیوان، 7 سالہ بیتی کو کیا قتل
سرپنچ کے انتخاب میں حصہ لینے کے قابل بننے کے لیے باپ بنا حیوان، 7 سالہ بیتی کو کیا قتلناندیڑ، 3 فروری (ہ س)۔ سیاسی اقتدار کی خواہش نے نانڈیڑ ضلع میں ایک ایسا بھیانک جرم جنم دیا ہے جس نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ 3 فروری کو سامنے آنے والے ا
CRIME MAHA FATHER MURDER DAUGHTER


سرپنچ کے انتخاب میں حصہ لینے کے قابل بننے کے لیے باپ بنا حیوان، 7 سالہ بیتی کو کیا قتلناندیڑ، 3 فروری (ہ س)۔ سیاسی اقتدار کی خواہش نے نانڈیڑ ضلع میں ایک ایسا بھیانک جرم جنم دیا ہے جس نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ 3 فروری کو سامنے آنے والے اس معاملے میں ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی سات سالہ بیٹی کو صرف اس لیے قتل کر دیا تاکہ وہ گاؤں کے سرپنچ کے انتخاب میں حصہ لینے کے قابل ہو سکے۔ پولیس کے مطابق ملزم پنڈورنگ کونڈ منگلے، جو مکھیڑ کے قریب ایک گاؤں میں رہتا ہے، نے سرپنچ کے انتخاب میں قسمت آزمانے کا ارادہ کیا تھا۔ چونکہ یہ نشست او بی سی طبقے کے لیے مخصوص تھی، اس لیے اسے موقع دکھائی دیا، مگر قانون اس کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔مہاراشٹر کے قوانین کے تحت تین بچوں والا فرد مقامی بلدیاتی انتخابات میں امیدوار نہیں بن سکتا۔ ملزم کے ایک بیٹے اور جڑواں بیٹیوں سمیت تین بچے تھے، جس کے باعث وہ نااہل ہو جاتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسی قانونی رکاوٹ کو ختم کرنے کے لیے اس نے اپنی کمسن بیٹی کے قتل کا منصوبہ بنایا۔تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ اس سازش میں صرف ملزم ہی نہیں بلکہ اس کی بیوی اور گاؤں کا موجودہ سرپنچ بھی مبینہ طور پر شریک تھے۔ منصوبے کے مطابق ملزم نے یہ کہہ کر گھر سے روانگی اختیار کی کہ وہ بچی کو نانڈیڑ لے جا رہا ہے لیکن وہ اسے تلنگانہ کے ایک گاؤں لے گیا جہاں مبینہ طور پر قتل کیا گیا۔پولیس حراست میں سخت پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے جرم کا اعتراف کیا۔ پہلے اس نے مالی تنگی کو وجہ بتایا، مگر بعد میں تسلیم کیا کہ اصل مقصد سرپنچ کے انتخاب میں حصہ لینے کی اہلیت حاصل کرنا تھا۔ یہ واقعہ سیاسی لالچ کی انتہا اور انسانیت کی پستی کی خوفناک مثال بن گیا ہے۔ہندوستھان سماچار--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande