
لندن،03فروری(ہ س)۔برطانیہ نے کہا ہے کہ اس نے ایران پر عائد پابندیوں کی فہرست میں 11 نئے نام شامل کیے ہیں جن میں 10 افراد اور ایک ادارہ شامل ہے۔ نئی پابندیاں جوہری اور فوجی سرگرمیوں سے وابستہ شعبوں اور شخصیات پر لگائی گئی ہیں۔ پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں ایرانی وزیر داخلہ سمیت سیکیورٹی اور عدالتی اداروں کے قائدین شامل ہیں۔ برطانوی حکام نے وضاحت کی ہے کہ یہ قدم ایران پر مسلسل دباو¿ کی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد لندن کے بقول خطے کو غیر مستحکم کرنے والی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔
برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ نئی پابندیاں جوہری اور فوجی سرگرمیوں سے جڑے شعبوں اور شخصیات کے علاوہ ان حلقوں کو نشانہ بناتی ہیں جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ ایران کی علاقائی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔
امریکی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ کے مطابق امریکہ نے جمعہ کے روز ایران اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق پابندیوں کا ایک نیا پیکیج جاری کیا تھا جس میں سات ایرانی شہریوں اور کم از کم ایک ادارے کو نشانہ بنایا گیا۔ پابندیوں کا شکار ہونے والوں میں ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی بھی شامل ہیں جن پر واشنگٹن نے ان بڑے پیمانے کے مظاہروں کو کچلنے کا الزام لگایا ہے جنہوں نے نظام کے لیے چیلنج کھڑا کیا تھا۔ یہ اقدامات امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے کریک ڈاو¿ن کے تناظر میں اعلیٰ سطح کے حکام پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے سلسلے کی حالیہ کڑی ہیں۔امریکی انتظامیہ نے کہا ہے کہ سکندر مومنی نے ایرانی قانون نافذ کرنے والے ان دستوں کی نگرانی کی جو ہزاروں مظاہرین کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ معاشی حالات کی خرابی کے نتیجے میں گزشتہ دسمبر کے آخر میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے جو بعد میں وسعت اختیار کر کے نظام کے لیے براہِ راست چیلنج بن گئے۔ اس کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاو¿ن ہوا۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں میں 6 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔ ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا مظاہرین کو بارہا دہشت گرد قرار دیتے رہے ہیں۔یورپی یونین نے جمعرات کو مومنی کے ساتھ ساتھ ایرانی عدلیہ کے ارکان اور سینیئر افسران پر اپنی پابندیاں عائد کی تھیں۔ یورپی یونین کا کہنا تھا کہ یہ تمام افراد پرامن احتجاج کے پرتشدد جبر اور سیاسی کارکنوں و انسانی حقوق کے علمبرداروں کی من مانی گرفتاریوں میں ملوث تھے۔ اسی تناظر میں امریکی وزارت خزانہ کے غیر ملکی اثاثوں کے کنٹرول کے دفتر نے جمعہ کو بابک مرتضیٰ زنجانی پر پابندیاں عائد کیں جو ایک ایرانی سرمایہ کار ہیں اور جن پر حکومت کے فائدے کے لیے ایرانی تیل کی آمدنی میں اربوں ڈالر کی خورد برد کا الزام ہے۔ ان پابندیوں میں زنجانی سے وابستہ دو ڈیجیٹل اثاثہ پلیٹ فارمز بھی شامل ہیں جن کے بارے میں وزارت کا کہنا ہے کہ انہوں نے خطیر رقم کی منتقلی میں مدد کی۔امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ان کی وزارت ایرانی نیٹ ورکس اور ان بدعنوان اشرافیہ کو نشانہ بنانا جاری رکھے گی جو ایرانی عوام کی قیمت پر خود کو مالا مال کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ ڈوبتے ہوئے جہاز پر چوہوں کی طرح، یہ نظام ایرانی خاندانوں سے چوری کی گئی رقم دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کرنے کے لیے دوڑ رہا ہے۔ یہ واضح کر دیا جائے کہ وزارت خزانہ ایکشن لے گی۔ یہ پابندیاں شامل افراد اور کمپنیوں کو امریکہ میں کسی بھی جائیداد یا مالیاتی اثاثوں تک رسائی سے محروم کر دیتی ہیں۔ امریکہ کے سفر پر پابندی لگاتی ہیں اور امریکی کمپنیوں اور شہریوں کو ان کے ساتھ کاروباری لین دین سے روکتی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan