
بغداد،24فروری(ہ س)۔عراق میں ایک بار پھر وزارت عظمی کے امید وار بننے والے سیاستدان نورالمالکی نے پیر کے روز مغربی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی ' سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی انتباہ اور دھمکی کے باوجود وزارت عظمیٰ کی امیدواریت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔نورالماکی کو عراق میں ایران کی حامی ملیشیاوں کا حمایت یافتہ خیال کیا جاتا ہے۔ وہ اس سے قبل بھی عراق کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں مگر انہیں امریکی دباو¿ کی وجہ سے اپنا یہ منصب اس وقت چھوڑنا پڑا تھا۔
امریکہ ایک طرف ایرانی رجیم کے خاتمے کے لیے آخری حد تک جانے کے اشارے دے رہا ہے اور دوسری جانب اس کی کوشش ہے کہ ایران کے پڑوس میں بھی کوئی ایسی حکومت نہ بنے جو ایران کی اخلاقی یا عملی حمایت کا موجب بن سکتی ہو۔اس وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پچھلے ماہ نورالمالکی کی وزارت عظمیٰ کے لیے نامزدگی کے بعد عراق کو دھمکی دی تھی کہ اگر ایران کی حامی حکومت بنی تو امریکہ عراق کی امداد جاری نہیں رکھے گا۔ فطری سی بات ہے امریکہ کا یہ حق ہے کہ وہ جس ملک کی چاہے حکومت تبدیل کرے اور جس ملک میں چاہے اپنی مرضی کی حکومت لائے۔ امریکہ نے تین جنوری کو وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کے اغوا کی کامیاب واردات بھی اسی لیے کی تھی۔تاہم نورالمالکی جنہوں نے مسلح ملیشیاو¿ں کو غیر مسلح کرنے کا عندیہ دیا ہے اور لبنانی حکومت کی طرح ہتھیاروں پر صرف حکومتی فوج کی اجارہ داری سے اتفاق کیا ہے۔ نیز اپنے ملک میں غیر ملکں سفارت خانوں کے تحفظ کا بھر پور عزم ظاہر کیا۔ ان کے اس عزم کے اظہار کی اہمیت امریکہ ایران کشیدگی کی جاری لہر میں اور بھی زیادہ ہے۔
مگر نورالمالکی ملکی سیاسی و حکومتی فیصلوں میں امریکہ کی مداخلت قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ 'اے ایف پی' سے بات کرتے یوئے انہوں نے کہا ہے میرا ایسا قطعا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ میں وزارت عظمیٰ کی امیدواری سے دستبردار ہو جاو¿ں۔ کیونکہ یہ کسی بھی ملک کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ہمیں بتائے کہ عوام کسے ووٹ دیں اور کسے ووٹ نہ دیں۔ یہی اصول میری وزارت عظمیٰ کے لیے امید واریت کا ہے۔انہوں نے اس سلسلے میں امریکی صدر کی دھمکی کو عراق کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا ہے اور اس کی مذمت کی ہے۔ اگرچہ انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ عراق کی ترقی کے لیے امریکہ سے تعلقات بہت اہم ہیں۔نور المالکی واحد سیاسی رہنما ہیں جو دو بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ ان کی وزارت عظمیٰ کا یہ دورانیہ 2006 سے 2014 کے درمیان رہا۔ انہوں نے اس امر کا بھی انکار کیا کہ ان کے زمانے میں امریکہ کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں رہے تھے۔نور المالکی کو عراق پر امریکی قبضے کے ابتدائی برسوں میں امریکی حمایت حاصل رہی۔ لیکن بعد ازاں ایران کے ساتھ معاہدات کرنے کے الزام میں ان کی حمایت امریکہ نے ختم کر دی۔ ان پر یہ الزام تھا کہ وہ فرقہ وارانہ ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
خیال رہے عراق کی سرزمین ایک طویل عرصے سے امریکہ و ایران کی پراکسیز کے لیے میدان جنگ کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے۔ تاہم پچھلی حکومت نے اس نازک صورتحال کے باوجود امریکہ و ایران کی تمام تر دشمنی کے دوران بھی دونوں کے لیے توازن قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔مالکی نے امریکہ کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش بھی کہ وہ امریکہ کے اس پرانے مطالبے کو سمجھتے ہیں کہ ہتھیار ملیشیاو¿ں کے ہاتھ میں نہیں ہونے چاہییں۔ بلکہ سرکاری فوج کے پاس ہی ہونے چاہئیں۔ہم یہ بات پہلے بھی کہتے رہے ہیں کہ عراقی فوج ایک ہی کمانڈ کے ماتحت رہے گی اور یہ کمانڈ ریاستی ہوگی۔انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ ممکن ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاو¿ں کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوجائے اور امن کے لیے ایک اچھی راہ عمل بن جائے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ طاقت، جنگ یا تصادم سے ممکن نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ہمیں ان سے بات کرنا ہوگی اور انہیں قائل کر کے ہی کامیابی مل سکتی ہے۔انہوں نے ایران اور عراق کے درمیان تعلقات کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ یہ تعلقات عراقی خود مختاری کے احترام کی بنیاد پر ہیں اور ان تعلقات کی بنیاد ہمارے دونوں ملکوں مشترکہ مفادات بھی ہیں۔نور المالکی نے زور دے کر کہا کہ وہ عراق میں موجود سفارتی مشنوں پر حملوں کی کوشش کو روکیں گے۔ ان کا یہ کہنا اس لیے تھا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث اڑوس پڑوس کے ملکوں میں امریکی سفارتی مشنوں پر حملے ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی ملک کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمارے ہاں موجود سفارتی مشن اور عملے کو نشانہ بنائے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan