ساحل، سید اور فیضان کھیلو انڈیا سرمائی کھیلوں میں برف پر نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں
گلمرگ (جموں و کشمیر)، 23 فروری (ہ س)۔ گلمرگ کی برفیلی ڈھلوانوں پر ٹھنڈی ہوا عزم کو مضبوط کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ تین نوجوان ہندوستانی الپائن اسکائر اپنے مستقبل کے لیے ایک نیا باب لکھ رہے ہیں۔ منالی کے بلند و بالا پہاڑوں اور کشمیر کی برف پوش وادیوں
ساحل، سید اور فیضان کھیلو انڈیا سرمائی کھیلوں میں برف پر نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں


گلمرگ (جموں و کشمیر)، 23 فروری (ہ س)۔

گلمرگ کی برفیلی ڈھلوانوں پر ٹھنڈی ہوا عزم کو مضبوط کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ تین نوجوان ہندوستانی الپائن اسکائر اپنے مستقبل کے لیے ایک نیا باب لکھ رہے ہیں۔ منالی کے بلند و بالا پہاڑوں اور کشمیر کی برف پوش وادیوں سے آنے والے یہ کھلاڑی بھلے ہی مختلف پس منظر کے حامل ہوں لیکن ان کا مقصد سرمائی اولمپکس میں ہندوستان کا جھنڈا لہرانا ہے۔

تینوں ایتھلیٹس کو محمد عارف خان نے مینٹر کیا ہے، جو دو بار کے ہندوستانی سرمائی اولمپک چمپئن ہیں۔

عارف خان کی رہنمائی میں، ساحل ٹھاکر، سید جین، اور فیضان احمد لون نے حال ہی میں اٹلی کے سڈٹیرول علاقے میں تربیت حاصل کی، جہاں انہوں نے یورپ کے بہترین الپائن اسکائیرز کی تکنیکی سختی اور مسابقتی ذہنیت کا قریب سے مشاہدہ کیا۔

19 سالہ ساحل ٹھاکر کے لیے اسکیئنگ میراث بھی اور فطری جبلت دونوں ہے۔

منالی میں پرورش پائے ساحل کے والد دیوی چند اور ان کے بھائی رجنیش اور راہل بھی اسکی کھلاڑی ہیں ۔ ساحل کہتے ہیں کہ اٹلی سے لوٹنے کے بعد مجھے اپنے کھیل میں فرق محسوس ہوا۔ تربیت کی باریکیاں اور تکنیک پر توجہ سے پہاڑوں کو دیکھنے کا نظریہ بدل جاتا ہے۔

ساحل، جس نے قومی سطح پر سونے اور چاندی کے تمغے جیتے ہیں، نے جنوبی کوریا کے شہر گینگون میں 2024 کے سرمائی یوتھ اولمپک کھیلوں میں بھی حصہ لیا۔اب، اس کی نگاہیں فرانسیسی الپس میں 2030 کے سرمائی اولمپکس پر مرکوز ہیں۔

اگر ساحل کا سفر خاندانی وراثت سے متاثر ہے تو 16 سالہ سیدزین کی کہانی جذبے اور محنت کی مثال دیتی ہے۔ زین جو سری نگر کے مضافات میں، ہمہامہ میں پلے بڑھے ہیں، نے 2020 میں افتتاحی کھیلو انڈیا سرمائی کھیلوں میں اسلالم اور جوائنٹ اسلالم مقابلوں میں دو گولڈ میڈل جیتے ۔

اس کے بعد انوہں نے 2022 جونیئر نیشنل چمپئن شپ میں چاندی کے دو تمغے جیتے۔

زین نے گلمرگ میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسکیئنگ اینڈ ماو¿نٹینیرنگ میں ابتدائی تربیت حاصل کی۔ وہ کہتے ہیں، اسکائینگ کو یورپی کھیل سمجھا جاتا ہے، لیکن عارف خان جیسے ایتھلیٹس نے دکھایا ہے کہ یہ ہندوستانی کھیل بھی ہو سکتا ہے۔

وہ چھ بار کے اولمپک حصہ لینے والے شیوا کیشوان کو بھی اپنی تحریک کے طور پر بتاتے ہیں۔

19 سالہ فیضان احمد لون کی کہانی موقع اور جدوجہد کی ایک مثال ہے۔ پانچ بار کے قومی گولڈ میڈلسٹ اور چار بار کھیلو انڈیا کے فاتح فیضان کہتے ہیں، اسکینگ ایک مہنگا کھیل ہے۔ عارف خان نے نہ صرف تربیت فراہم کی بلکہ مجھے اسپانسر شپ حاصل کرنے میں بھی مدد کی، جس سے مجھے بین الاقوامی سطح پر حصہ لینے کے قابل بنایا گیا۔

گلمرگ کی ڈھلوان پر، ساحل، جین اور فیضان اب صرف کھلاڑیوں کی تربیت نہیں کر رہے ہیں، بلکہ ایک ایسے ہندوستان کے نمائندے بن گئے ہیں جو سرمائی کھیلوں میں اپنی شان کے لیے کوشاں ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande