
نئی دہلی، 23 فروری (ہ س)۔ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترا نے کہا کہ آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک میں 590 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کے معاملے پر آربی آئی کی نظر ہے ، لیکن اس میں کوئی نظامی مسئلہ نہیں ہے۔
سنجے ملہوترا نے پیر کو نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا، ”پالیسی کے طور پر، ہم کسی بھی ایک بینک یا ریگولیٹڈانٹٹی (زیر ضوابط ادارے) پر تبصرہ نہیں کرتے ہیں۔ ہم پیش رفت پر نظر رکھ رہے ہیں۔“
اس سے پہلے،آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی ) اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) وی ویدیہ ناتھن نے کہا کہ بینک ملازمین اور باہری فریقین کے درمیان ملی بھگت کے ذریعہ ہریانہ حکومت کے اکاو¿نٹس سے متعلق 590کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کو انجام دیا گیا۔ یہ مدعا ایک ادارے اور ایک کسٹمر گروپ تک محدود تھا۔ یہ کسی نظامی ’رپورٹنگ ‘کی غلطی کا معاملہ نہیں ہے ۔
ہریانہ حکومت نے بینک فراڈ کے مبینہ الزامات کے تناظر میں اے یو اسمال فائنانس بینک کے ساتھ ساتھ ساتھ آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کو بھی سرکاری کام کے لیے اپنی کمیٹی سے باہر (ڈی ۔ایمپینلڈ )کر دیا ہے۔ اس کے بعد آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک نے اتوار کے روز انکشاف کیا تھا کہ اس کے ملازمین اور دیگر نے ہریانہ حکومت کے کھاتوں میں 590 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد