
لکھنو¿،22 فروری (ہ س)۔
سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی امن و امان کی صورتحال پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے اپنی سیکورٹی واپس لینے پر حکومت پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا، ہم سماج واد ی ڈرانے والے نہیں ہیں، چاہے تمام سیکورٹی واپس لے لی جائے، پھر بھی ہم انہیں حکومت سے ہٹا دیں گے۔ انہوں نے بی جے پی حکومت پر شنکراچاریہ کی توہین کرنے کا الزام بھی لگایا اور ان کے ساتھ سلوک کو توہین آمیز فعل قرار دیا۔ اکھلیش یادو اتوار کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں نامہ نگاروں سے خطاب کر رہے تھے۔
ایس پی صدر ایک بار پھر شنکراچاریہ ایوی مکتیشورانند کی حمایت میں کھڑے نظر آئے۔ انہوں نے شنکراچاریہ سے متعلق مبینہ تنازعہ پر حکومت پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 20 سال پرانے مسائل کو اٹھا کر شنکراچاریہ کی توہین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے جگت گرو رام بھدراچاریہ کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف درج 420 کا مقدمہ واپس لینا ان کی غلطی تھی۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ رام بھدراچاریہ کے بارے میں ذاتی تبصرے نہیں کیے جانے چاہئیں۔
شنکراچاریہ کے خلاف ایف آئی آر پر برہم اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ بی جے پی شنکراچاریہ سے ’سرٹیفکیٹ‘ مانگ رہی ہے، جب کہ خود ان کے پاس اپنا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ انہوں نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کا نام لیے بغیر ان پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ ”کپڑے پہننے اور کان چھونے سے یوگی نہیں بنتا“۔ ریاستی حکومت شنکراچاریہ کے ساتھ جس طرح کا سلوک کر رہی ہے اس کا جواب عوام دیں گے۔
ایس پی صدر اکھلیش یادو نے ایک بار پھر یوپی کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ اور برجیش پاٹھک کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا، ”دو نائب وزیر اعلیٰ میں سے کوئی ایک 100 ایم ایل اے لے کر وزیر اعلیٰ بننا چاہیے۔“ اس دوران اکھلیش یادو کی موجودگی میں کئی لیڈروں کو ایس پی میں شامل کیا گیا۔مبارکبادیں دی گئیں۔ اس موقع پر ریاستی صدر شیام لال پال، ایوان میں اپوزیشن لیڈر ماتا پرساد پانڈے کے ساتھ پارٹی لیڈروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ