
نئی دہلی، 10 فروری (ہ س)۔ کریڈٹ کارڈ کی لمٹ بڑھانے کا جھانسہ دے کر سائبر ٹھگوں نے شاہدرہ کے علاقے کی ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ خاتون کو اپنا شکار بنا لیا۔ فرضی بینک ایپ ڈاؤن لوڈ کروا کر کے ملزمین نے اس کے کریڈٹ کارڈ سے 75ہزار 694 روپے کی ٹھگی کر لی ۔ شاہدرہ ضلع سائبر تھانہ پولیس نے تکنیکی تفتیش اور منی ٹریل کی بنیاد پر اس منظم گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار ملزمان کو گرفتار کیا ۔
شاہدرہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس پرشانت گوتم نے منگل کے روز بتایا کہ شاہدرہ کے کرشنا نگر علاقے میں رہنے والی ایک خاتون کو 4 فروری 2026 کو کال موصول ہوئی۔ کال کرنے والے نے کوٹک مہندرا بینک کی ملازمہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے کریڈٹ کارڈ کی لمٹ (حد) بڑھائی جا سکتی ہے۔خاتون کو اعتماد میں لینے کے بعد ملزم نے واٹس ایپ کے ذریعے ایک موبائل ایپ بھیجی اور اسے ڈاؤن لوڈ کرنے کو کہا۔ خاتون کے موبائل میں ایپ انسٹال ہوتے ہی فون ہیک ہو گیا اور کچھ ہی دیر میں اس کے کریڈٹ کارڈ سے 75,000 روپے سے زیادہ کی رقم نکال لی گئی۔
دھوکہ دہی کا پتہ چلنے پر، متاثرہ نے سائبر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے خاتون کے بیان کی بنیاد پر مقدمہ درج کر لیا۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس کے مطابق، تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹھگی سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال ایک آن لائن پورٹل کے ذریعے الیکٹرانک سامان خریدا گیا، جس کی فرید آباد میں ڈلیوری کروائی گئی ۔ تکنیکی شواہد اور ڈیلیوری ایڈریس کی بنیاد پر پولیس نے ملزمان کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کرلیا۔
پوچھ گچھ کے دوران انکشاف ہوا کہ مرکزی ملزم آشیش کمار اوجھا پہلے ایک پرائیویٹ کمپنی میں کریڈٹ کارڈ سیلز کا کام کرتا تھا۔ اسی دوران اسے صارفین کا خفیہ ڈیٹا حاصل ہوا۔ اس نے اس ڈیٹا کا فائدہ اٹھایا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک دھوکہ دہی کا منصوبہ بنایا۔ شریک ملزم وویک کمار عرف مونو نے بینک کے نام سے مشابہہ ایک فرضی موبائل ایپ تیار کی، جسے متاثرین کو بھیجا جاتا تھا۔
پولیس کی تحقیقات میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ اپنی شناخت چھپانے کے لیے تیسرے ملزم ابھیشیک کمار جھا کے ذریعے حاصل سم کارڈلئے جاتے تھے۔ دھوکہ دہی سے خریدا گیا سامان بعد میں آن لائن اور مقامی بازاروں میں فروخت کیا جاتا تھا۔ چوتھے ملزم اقرار سے واردات میں استعمال ہونے والا موبائل فون برآمد ہوا ہے۔
شاہدرہ ڈسٹرکٹ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بینک سے متعلق معلومات کسی نامعلوم کال کرنے والے کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ بینک کبھی بھی واٹس ایپ پر ایپس کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نہیں بھیجتے ہیں۔ سائبر فراڈ کی صورت میں فوری طور پر 1930 ہیلپ لائن پر رابطہ کریں یا سائبر کرائم پورٹل پر شکایت درج کریں۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد