وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے سکم کے شیرے تھانگ میں فوجیوں کے ساتھ دیوالی منائی، جوانوں کی قربانیوں کو سلام پیش کیا
نئی دہلی، 8 نومبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اتوار کو ہندوستان اور چین کی سرحد پر واقع سکم کے شیرے تھانگ کا دورہ کیا اور وہاں تعینات ہندوستانی فوج کے جوانوں کے ساتھ دیوالی منائی۔ اس موقع پر انہوں نے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی سلامت
دیوالی


نئی دہلی، 8 نومبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اتوار کو ہندوستان اور چین کی سرحد پر واقع سکم کے شیرے تھانگ کا دورہ کیا اور وہاں تعینات ہندوستانی فوج کے جوانوں کے ساتھ دیوالی منائی۔ اس موقع پر انہوں نے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے جوانوں کی عظیم قربانیوں کو یاد کیا۔

انہوں نے کہا، ’’آج ہم دیوالی کے چراغ روشن کر پا رہے ہیں تو اس کے پیچھے ہمارے بہادر جوانوں کی عظیم قربانی ہے۔ انہوں نے اپنی جانیں قربان کرکے ملک کی سلامتی اور خودمختاری کی حفاظت کی ہے۔ میں تمام جوانوں کے اہل خانہ کو بھی دیوالی کی دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔‘‘

شیرے تھانگ کی بلندی اور شدید سردی کے درمیان فوجیوں کے ساتھ موجود رہنے سے خصوصی توانائی حاصل ہونے کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جوانوں کے چہروں پر مسکراہٹ، جوش اور جذبہ ان کے لیے دیوالی کی سب سے بڑی روشنی ہے۔ انہوں نے فوجیوں کو ایک ایک چراغ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی روشنی صرف سرحدی چوکیوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر گھر تک پہنچتی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ٹیکنالوجی چاہے کتنی ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو جائے، لیکن نظم و ضبط اور بہادری کے بغیر اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ فوجیوں کا نظم و ضبط، ان کا طرزِ عمل اور مقامی لوگوں کے تئیں احترام ہی فوج کی پہچان ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیرے تھانگ میں فوج کے لیے مقامی لوگوں کے دلوں میں جو محبت اور اعتماد ہے، اسے برقرار رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا، ’’فوج شور نہیں مچاتی، لیکن اپنی موجودگی سے ہی ملک کو تحفظ اور اعتماد کا احساس دلاتی ہے۔ جب ملک کے لوگ تہوار مناتے ہیں، تب آپ سرحدوں پر چوکس رہ کر اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ آپ کی وجہ سے ہی ملک کے شہری سکون کی نیند سو پاتے ہیں اور دیوالی کے چراغ مزید روشن نظر آتے ہیں۔‘‘

اس موقع پر انہوں نے شیرے تھانگ میں واقع جنگی یادگار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ یادگار بہادر جوانوں کی شجاعت، بہادری اور کارناموں کو تاریخ میں درج کرے گی۔ یہاں شہید ہونے والے جوان ملک کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھتے تھے، جنہوں نے مقامی لوگوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ قومی شعور بیدار کرنے میں ایسی یادگاروں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ یادگاریں زندہ لوگوں کو ترغیب دینے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ شیرے تھانگ جنگی یادگار بھی نوجوانوں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک تحریک کا مرکز بنے گی۔ اس دوران انہوں نے دہلی میں قائم قومی یادگار کا بھی ذکر کیا۔

آخر میں انہوں نے قومی سلامتی کے لیے فوجیوں کی لگن کی تعریف کرتے ہوئے سبھی کو خوشی، امن اور خوشحالی سے بھرپور دیوالی کی مبارک باد دی۔ انہوں نے ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کے نعرے کے ساتھ اپنا خطاب ختم کیا۔

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اتوار کی صبح شیرے تھانگ پہنچے تھے۔ اس سے پہلے ہفتہ کو انہوں نے باگڈوگرا اور سلی گوڑی میں تعینات ہندوستانی فوج کے جوانوں سے ملاقات کی تھی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande