
نئی دہلی، 08 نومبر (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو کہا کہ اس بار کی دیوالی خاص ہے، کیونکہ یہ پہلی دیوالی ہے جب ملک کا ہر ضلع نکسلزم سے پاک ہو چکا ہے اور کروڑوں شہری بائیں بازو کی انتہا پسندی کے اثرات سے آزاد ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 47 سال بعد پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)کے کسی بھی جوان کی ڈیوٹی کے دوران جان نہیں گئی۔وزیر اعظم مودی اتوار کو اپنی روایت کے مطابق دیوالی کے موقع پر جوانوں کے درمیان پہنچے۔ اس مرتبہ انہوں نے چھتیس گڑھ کے بستر ضلع میں سی آر پی ایف کے جوانوں کے ساتھ دیوالی منائی اور ان سے خطاب کیا۔
اس موقع پر جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جب ملک کی داخلی سلامتی مضبوط ہوتی ہے، تبھی وہ بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے نکسلزم کو ایک ’لاعلاج‘ بیماری سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا، لیکن اس طرح کی پالیسی سے آگے نہیں بڑھا جا سکتا تھا۔مودی نے کہا کہ 2014 میں ان کی حکومت نے مضبوط حکمت عملی اور بلند حوصلوں کے ساتھ سیاسی عزم کی کمی کو دور کیا اور نکسلزم کے خلاف فیصلہ کن لڑائی لڑی۔ آج اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک نکسلزم سے آزاد ہو چکا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے خدمت کے جذبے کے ساتھ نکسلزم سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کا کام کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نکسلزم سے متاثرہ لوگ آج حکومت اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔انہوں نے سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانیوں، محنت اور عزم کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں کی وجہ سے ہی نکسل دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوا اور متاثرہ علاقوں میں ترقی کی نئی بہار آئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام ہم وطنوں کی جانب سے جوانوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا، ’’ملک کی داخلی سلامتی میں مصروف سکیورٹی فورسز، سی آر پی ایف، کوبرا، بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی کا ایک ایک جوان، ایس ایس بی، آئی آر بی اور ریاستی پولیس کا ہر سپاہی، بستر فائٹرز جیسے خصوصی دستوں کے کمانڈوز اور خاتون فائٹرز، ملک آپ کی خدمات کا مقروض ہے۔‘‘
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ان کی حکومت نے جس طرح دفعہ 370 ختم کرنے اور ملک کو نکسلزم سے آزاد کرانے کے اپنے عزم کو پورا کیا ہے، اسی طرح ملک کو غربت سے پاک کرنے، منشیات سے پاک بنانے اور ترقی یافتہ ہندوستان و خود کفیل ہندوستان کے خواب کو حقیقت میں بدلنے میں بھی کامیاب ہوگی۔وزیر اعظم نے ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ نکسلزم کے خلاف لڑائی کے باوجود خطرہ پوری طرح ختم نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ جنگلات سے نکسل عناصر کا صفایا ہو چکا ہے، لیکن ’ذہنی نکسل‘ نے کئی تنظیموں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور مختلف تنظیموں میں بھی ان کی دراندازی ہے۔ ایسے عناصر کی شناخت ضروری ہے، کیونکہ یہ لوگ ملک کے آئین اور جمہوریت کے خلاف عوام کو اکسا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے حال ہی میں عالمی بینک کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے مطابق گزشتہ 12 برسوں کے دوران ملک میں 50 کروڑ افراد غربت سے باہر نکلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’غربت ہٹاؤ‘ کے نعرے سے جو کام ممکن نہیں ہو سکا، اسے گزشتہ 12 برسوں میں ملک نے کرکے دکھایا ہے۔انہوں نے غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کی جانب سے شروع کی گئی مختلف اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسکیمیں رنگولی کی طرح ہیں، جو ایک دوسرے سے جڑ کر ایک خوبصورت منظر پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے جن دھن یوجنا، پی ایم آواس یوجنا، مدرا یوجنا، پی ایم سواندھی، آیوشمان بھارت، مفت راشن، سستی ادویات اور تحفظ سے متعلق سرکاری اسکیموں کا بھی ذکر کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ جن خاندانوں کو پہلے غربت وراثت میں ملتی تھی، آج ان کے سامنے بہتر مستقبل کی امیدیں روشن ہو رہی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan