
دینی و اخلاقی تعلیم کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت، علمائ و دانشوران نے والدین سے بچوں کو مکتب سے جوڑنے کی اپیل کینئی دہلی، 8 نومبر (ہ س)۔مشرقی دہلی کے معروف علاقہ للیتا پارک، گلی نمبر 8 میں بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت اور اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے ایک جامع مکتب مکتب تجوید القرآن کا باقاعدہ قیام عمل میں آیا۔ اس موقع پر ایک افتتاحی و تعارفی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں علمائ کرام، سماجی شخصیات، دانشوران اور علاقہ کے معززین نے شرکت کی۔پروگرام کا آغاز قاری رحمت اللہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، جب کہ قاری عثمان نے بارگاہ رسالت میں نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا۔پروگرام کی پہلی نشست کی صدارت جمعیۃ علمائ مشرقی دہلی کے صدر قاری یاسین نے کی، جب کہ دوسری نشست کی صدارت ایک مینار جامع مسجد کے صدر الحاج عبدالخالق نے فرمائی۔ پروگرام کی سرپرستی جمعیۃ علمائ اصلاح معاشرہ حلقہ لکشمی نگر کے صدر جناب طارق، نائب صدر ماسٹر احسان، جناب نقی احمد، جنرل سیکریٹری اکبر علی اور ڈاکٹر ظہیر نے کی۔پروگرام کی نظامت جمعیۃ علمائ مشرقی دہلی کے جنرل سیکریٹری مفتی عبدالواحد قاسمی نے انجام دی۔ انہوں نے دوران نظامت مکتب کی ضرورت و اہمیت پر نہایت مؤثر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مکتب صرف قرآن پڑھنے کی جگہ نہیں، بلکہ بچوں کے ایمان، کردار، اخلاق اور اسلامی شناخت کی بنیاد مضبوط کرنے کا ایک اہم ادارہ ہے۔ آج کے دور میں جب نئی نسل مختلف قسم کے فکری اور اخلاقی چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں ہر محلے میں معیاری مکاتب کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کا بھی خصوصی اہتمام کریں۔قاری یاسین نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ قوموں کی ترقی اور بقا کا راز تعلیم و تربیت میں پوشیدہ ہے۔ بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے قرآن کریم، بنیادی دینی مسائل اور اسلامی اخلاق و آداب سے واقف کرانا والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مکتب کے قیام کو قابلِ تحسین قدم قرار دیتے ہوئے اس کے استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون کی اپیل کی۔
طارق نے کہا کہ معاشرے کی اصلاح کا آغاز نئی نسل کی صحیح تربیت سے ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو دین سے جوڑنے میں کامیاب ہوگئے تو ہمارا مستقبل روشن ہوگا۔ انہوں نے مکتب کے ذمہ داران کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تعلیمی اداروں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ماسٹر احسان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم انسان کی زندگی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ دینی تعلیم بچوں کو اچھا انسان، ذمہ دار شہری اور بااخلاق مسلمان بناتی ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کے تعلیمی معمولات میں مکتب کو لازمی حصہ بنائیں۔ نقی احمد نے کہا کہ آج کے دور میں بچوں کی تعلیم کے ساتھ ان کی اخلاقی تربیت پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔ مکتب کا قیام اسی سمت میں ایک قابلِ قدر کوشش ہے، جس کی کامیابی کے لیے پورے علاقے کو متحد ہوکر تعاون کرنا چاہیے۔
اکبر علی نے کہا کہ مکتب کا قیام محض ایک تعلیمی ادارے کا آغاز نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے دینی مستقبل کی تعمیر کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے اہل علاقہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو پابندی کے ساتھ مکتب بھیجیں اور اس ادارے کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ڈاکٹر ظہیر نے اپنے خطاب میں تعلیم کی ہمہ گیر اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور روحانی نشوونما کے لیے دینی تعلیم ناگزیر ہے۔ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو دینی اقدار سے روشناس کرائیں۔
مکتب تجوید القرآن کے مہتمم مولانا ضیائ الرحمن قاسمی نے تمام مہمانوں اور شرکائ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مکتب کے قیام کا بنیادی مقصد بچوں کو قرآن کریم کی صحیح تعلیم، ضروری دینی معلومات اور اسلامی اخلاق و آداب سے آراستہ کرنا ہے۔ انہوں نے بہتر اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔مکتب کے ناظم قاری صلاح الدین نے بھی تمام مہمانان کرام، معاونین اور اہل علاقہ کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ مکتب میں بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
پروگرام کی دوسری نشست میں جمعیۃ علمائ کے نائب صدر اور بڑی مسجد کے امام و خطیب مولانا عبدالحنان قاسمی نے اپنے مدلل اور جامع خطاب میں تعلیم و تربیت کے طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بچوں کو تعلیم دینے کا مقصد محض کتابیں پڑھانا نہیں، بلکہ ان کے اندر علم کا ذوق، عمل کا جذبہ اور اچھے اخلاق پیدا کرنا بھی ہے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کی ذہنی صلاحیتوں اور نفسیات کو سمجھتے ہوئے شفقت، محبت اور حکمت کے ساتھ تعلیم دیں۔ انہوں نے کہا کہ مکتب کی کامیابی کا انحصار اساتذہ کی محنت، والدین کے تعاون اور بچوں کی پابندی پر ہے۔پروگرام میں حاجی یوسف سیٹھ جی، ماسٹر سلمان، ڈی این نیوز کے ڈائریکٹر شاہد، ڈاکٹر مفتی آصف اقبال قاسمی، ماسٹر فرمان، چودھری اسلام، قاری کیف، شاہد بھائی، مولوی زید، مولوی مبشر سمیت علاقے کی متعدد معزز شخصیات نے شرکت کی۔آخر میں مولانا عبدالحنان قاسمی کی رقت آمیز دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا۔ شرکائ نے مکتب کے قیام کو علاقے کے لیے ایک اہم دینی و تعلیمی پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan