
تہران، 08 نومبر (ہ س)۔
آبنائے ہرمز میں اتوار کے روز تین تیل بردار جہازوں میں دھماکے کے بعد آگ لگ گئی۔ ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے یہ دعویٰ کیا ہے۔ تاہم اس نے ان جہازوں کے نام یا ان کی قومیت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔
آئی آر جی سی کے بیان کے مطابق اتوار کی علی الصبح تین تیل بردار جہاز مقررہ ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے اس راستے سے گزر رہے تھے، جسے ایران نے غیر قانونی قرار دے رکھا ہے۔ اسی دوران ان جہازوں میں دھماکے ہوئے اور آگ لگ گئی۔
متحدہ عرب امارات کے سرکاری میڈیا کے مطابق اتوار کو خلیج عمان میں آگ کی زد میں آنے والے ایک جہاز سے 22 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ تمام افراد کی حالت مستحکم ہے۔
دوسری جانب برطانیہ کی بحری سلامتی ایجنسی یو کے ایم ٹی او نے بتایا کہ ہفتہ کے روز عمان کے خصب ساحل کے قریب آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار جہاز میں آگ لگ گئی تھی۔ ایجنسی کے مطابق فوجی حکام نے جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع دی تھی، جس کے بعد عملے کے تمام افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔
اسی روز ایک دوسرے تیل بردار جہاز پر کسی نامعلوم چیز سے حملہ کیے جانے کی خبر بھی سامنے آئی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ فروری کے آخر میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے تہران نے اس اہم تزویراتی بحری راستے سے جہازوں کی آمد و رفت پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو اسلامی جمہوریہ ایران کے منظور شدہ بحری راستوں کا استعمال کرنا ہوگا۔
اس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی نافذ کردی ہے اور تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت نکالنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ