
اسلام آباد، 11 اکتوبر(ہ س)۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد کی جانب بڑھتے لانگ مارچ کے درمیان وفاقی حکومت خیبر پختونخوا (کے پی) میں کسی بھی وقت ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کرسکتی ہے۔ اسلام آباد کے ایوانِ صدر میں وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان ہفتہ کو طویل مشاورت کے بعد خیبر پختونخوا میں یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
’دی نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق، ایوانِ صدر میں ہونے والی اس مشاورت کے دوران نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سیاسی امور کے مشیر رانا ثنائ اللہ، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سمیت دیگر رہنماؤں سے بھی رائے لی گئی۔ ان میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم حسین بھی شامل تھے۔
اس پیش رفت کے بعد ایوانِ صدر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اجلاس میں 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر اتفاق ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری کے لیے اتوار کی صبح ساڑھے 9 بجے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کیا گیا، جس میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر اتفاق رائے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دریں اثنا، وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو فون کرکے عمرہ کی ادائیگی پر مبارک باد دی۔ وزیر اعظم نے انہیں وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کے لیے مدعو کیا، جسے مولانا فضل الرحمان نے قبول کرلیا۔
اس دوران مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ ملک میں جاری سیاسی بحران کو ختم کرنے کے لیے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔ ذرائع کے مطابق، انہوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے پر زور دیا۔
وزیر اعظم نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے حکومت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں انہیں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے وزیر اعظم سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر اپنی جماعت کی کور کمیٹی کو اعتماد میں لیں۔دوسری جانب خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے بارے میں کوئی بھی باضابطہ فیصلہ اتوار کو وفاقی کابینہ کرے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کے امکانات اب بہت کم رہ گئے ہیں۔ صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اب مزید متبادل راستوں کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔اس دوران ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، راولپنڈی ضلع میں 10 اکتوبر سے 8 نومبر تک دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا تھا۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ لانگ مارچ اور سیاسی کشیدگی کے درمیان صوبے میں ممکنہ ایمرجنسی کے معاملے نے ملکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan