
نئی دہلی، 7 نومبر(ہ س)۔راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ(آر ایس ایس) کی مجلسِ عاملہ کے رکن اندریش کمار نے سونیا گاندھی کی نئی کتاب Belonging: A Journey of Love میں تنظیم کے حوالے سے کیے گئے تبصروں پر اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی خاندان آزادی سے پہلے ہی سے آر ایس ایس کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتا رہا ہے اور سونیا گاندھی نے اپنی نئی کتاب میں تنظیم پر جو الزامات لگائے ہیں، وہ مکمل طور پر احمقانہ اور نامناسب ہیں۔ اندریش کمار نے راہل گاندھی پر بھی آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو آرایس ایس کو بدنام کرنے اور اس پر پابندی لگوانے کی بار بار کی کوششوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔
اندریش کمار نے کہا کہ کانگریس نے کئی مرتبہ آر ایس ایس کو بدنام کرنے اور اس پر پابندی عائد کروانے کی کوشش کی، لیکن ہر بار اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس کو نصیحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آسمان کی طرف دیکھ کر تھوکنے والا شخص آخرکار خود ہی اس کا شکار ہوتا ہے۔ ان کے مطابق، کانگریس اور گاندھی خاندان کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ تنظیم کے خلاف مسلسل الزامات لگانے سے آخر کیا حاصل ہوا ہے۔سونیا گاندھی نے حال ہی میں اخبار ‘دی ہندو’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران ملک کے جمہوری نظام، اداروں اور سماجی تانے بانے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے آر ایس ایس کے نظریے سے کانگریس کے اختلاف کو بھی واضح کیا تھا۔ اندریش کمار نے ان تبصروں کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کانگریس کی سیاسی سوچ پر سوال اٹھائے۔
اندریش کمار نے راہل گاندھی پر آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ کسی حکومت یا سیاسی نظام میں تبدیلی کا راستہ انتخابات ہیں۔ انتخابات کے ذریعے عوام اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔ کسی کو بدنام کرکے، افراتفری پھیلا کر یا بے چینی پیدا کرکے اقتدار کی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو جمہوری عمل کا احترام کرنا چاہیے اور اقتدار میں تبدیلی کے لیے عوام کے درمیان جانا چاہیے۔
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کی جانب سے رام مندر جانے کی بات پر بھی اندریش کمار نے ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر کی تعمیر کے اتنے عرصے بعد انتخابات سے پہلے درشن کرنے کی بات کرنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے اکھلیش یادو کے لیے نیک فہم و فراست کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ بھگوان رام کے تئیں عقیدت کو سیاسی مواقع سے جوڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے۔دیوالی کے موقع پر اندریش کمار نے ملک کے عوام کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے نوجوانوں اور جین زی سے اپیل کی کہ وہ اپنی تعلیم، مہارتوں اور کیریئر پر توجہ مرکوز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو سیاسی جماعتوں سے دور رہ کر اپنے مستقبل کو ترجیح دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے نوجوانوں کا استعمال کرسکتی ہیں، جس سے ان کی زندگی اور کیریئر متاثر ہوسکتا ہے۔ اس لیے کسی بھی سیاسی سرگرمی میں شامل ہونے سے پہلے نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
اندریش کمار نے یہ باتیں دیوالی کے موقع پر منعقدہ ایک پروگرام کے دوران کہیں۔ پروگرام میں بالی ووڈ کے صوفی گلوکار محمد وکیل اور دیالو مہاراج نے اپنی شاندار پیشکشوں سے محفل کو خوب رونق بخشی۔ اس موقع پر محمد وکیل نے فلم ویر زارا کا اپنا مشہور گانا بھی پیش کیا۔ بھجن اور کیرتن سے سجی یہ شام موسیقی، تفریح اور روحانی عقیدت کا خوبصورت امتزاج رہی، جہاں موجود لوگوں نے ایمان، خوشی اور جشن کے ماحول سے لطف اٹھایا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan