انہدام سے پہلے قانون کی پابندی اور متاثرین کو سماعت کا مکمل موقع دینا ہوگا: ہائی کورٹ
راجستھان کے سرحدی علاقوں کی مساجد و درگاہوں کا معاملہ۔ حکومت کی یقین دہانی کہ شوکاز نوٹس پر فیصلہ ہونے سے پہلے کوئی کارروائی نہیں ہوگی ۔صدر جمعیۃ علمائ ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں انصاف کی جدوجہد جارینئی دہلی، 7 نومبر(ہ س)۔ جودھپور ہائی
انہدام سے پہلے قانون کی پابندی اور متاثرین کو سماعت کا مکمل موقع دینا ہوگا: ہائی کورٹ


راجستھان کے سرحدی علاقوں کی مساجد و درگاہوں کا معاملہ۔ حکومت کی یقین دہانی کہ شوکاز نوٹس پر فیصلہ ہونے سے پہلے کوئی کارروائی نہیں ہوگی ۔صدر جمعیۃ علمائ ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں انصاف کی جدوجہد جارینئی دہلی، 7 نومبر(ہ س)۔ جودھپور ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے مساجد اور دیگر تعمیرات سے متعلق پانچ اپیلوں کو نمٹاتے ہوئے واضح کیا کہ قانونی ضابطوں کی پابندی اور متاثرہ فریق کو اپنا موقف پیش کرنے کے لیے مناسب موقع دینا ضروری ہے۔ عدالت میں ریاستی حکومت کے ایڈیشنل ایڈوکیٹس جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ شوکاز نوٹس کے تحت جاری کارروائی کا فیصلہ ہونے سے پہلے کوئی انہدامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔6نومبر 2026 کو جسٹس وِنیت کمار ماتھر اور جسٹس چندر شیکھر شرما پر مشتمل ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے غفور بنام ریاستِ راجستھان و دیگر کے مقدمے میں یہ حکم صادر کیا۔ متاثرہ فریقوں کی جانب سے صدر جمعیۃ علمائ ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر وکلائ کی ایک ٹیم نے مقدمے کی پیروی کی جن میں ایڈوکیٹ ہریش کمار پروہت اور ایڈوکیٹ اقبال خاں شامل تھے جب کہ ایڈوکیٹ طاہر حکیم اور لیگل سیل کے کنوینر پروفیسر نثار احمد انصاری نے معاونت فراہم کی۔

سماعت کے دوران اپیل کنندہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکام شوکاز نوٹس کا جواب موصول ہونے اور اس پر غور کیے بغیر بلڈورز چلارہے ہیں جب کہ متاثرہ فریق کو اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع بھی نہیں دیا گیا۔عدالت نے اپیل کنندگان کو تفصیلی جواب داخل کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دی۔ ساتھ ہی ہدایت کی کہ جواب داخل ہونے کی صورت میں مجاز اتھارٹی متاثرہ فریق کو سماعت کا مناسب موقع دے اور تمام متعلقہ دستاویزات پر غور کرنے کے بعد قانون کے مطابق وجوہات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرے۔اسی روز ہائی کورٹ کی مذکورہ ڈویژن بنچ نے چار دیگر اپیلوں کا بھی فیصلہ سنایا۔ عدالت نے درج کیا کہ ان مقدمات کے معاملات غفور بنام ریاستِ راجستھان کے مقدمے میں دیے گئے فیصلے کے تحت آتے ہیں، اس لیے ان چاروں اپیلوں کو بھی اسی فیصلے کی روشنی میں نمٹا دیا گیا۔ان مقدمات میں شامل مسجد آدرش نگری، بھوجریا، ضلع باڑمیر: متولی سلیمان خان کی جانب سے اپیل نمبر 1358/2026۔منوہر مسجد، گاو?ں منوہر، ضلع باڑمیر: متولی عبدالرازق کی جانب سے اپیل نمبر 1360/2026۔حسن حسین، باشندہ بھری والا، پوکھرن، ضلع جیسلمیر: اپیل نمبر 1365/2026۔مصطفیٰ خان، باشندہ گاو?ں ملانہ، ضلع باڑمیر: اپیل نمبر 1368/2026شامل ہیں ۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

راجستھان کے سرحدی علاقوں میں مساجد اور درگاہوں کے خلاف کارروائی کا معاملہ 18 جون 2026 کو شروع ہوا۔ جمعیۃ علمائراجستھان کے مطابق اس دوران مجموعی طور پر 14 مساجد اور مزارات منہدم کیے گئے، جب کہ متاثرہ فریقوں کو اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا۔اس کارروائی کی اطلاع ملتے ہی جمعیۃ علمائ راجستھان کے جنرل سکریٹری مولانا عبدالواحد کھتری نے قانونی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ ابتدا میں راجستھان ہائی کورٹ میں مجموعی طور پر 40سے زائد عرضیاں داخل کی گئیں۔ 13 جولائی 2026 کو یہ عرضیاں خارج کر دی گئیں۔اس کے بعد جمعیۃ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جہاں سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے مقدمات کی پیروی کی اور 15 روزہ عبوری حکمِ امتناع حاصل ہوا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق راجستھان ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ کے سامنے اپیلیں دائر کی گئیں۔

بلڈوزر ایکشن کے دور میں ہی جمعیۃ علمائ ہند کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے مفتی محمد عفان منصورپوری صدر جمعیۃ علمائ یوپی کی قیادت میں راجستھان کا دورہ کیا تھا ، لیکن وفد کو متاثرہ علاقہ جانے سے روک دیا گیا تھا۔ گزشتہ 16 اکتوبر کو جمعیۃ علمائ ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی، جمعیۃ علمائ مدھیہ پردیش کے صدر حاجی محمد ہارون، مولانا مفتی ذاکر حسین قاسمی، ناظمِ تنظیم جمعیۃ علمائ ہند (شمال) اور مولانا عظیم اللہ صدیقی سکریٹری جمعیۃ علمائ ہند پر مشتمل وفد نے جائے وقوع پر پہنچ کر منہدم مساجد کا دورہ کیا، جن میں گاو?ں مالاسر اور میرپورا وغیرہ شامل تھے، جہاں منہدم مساجد کو دیکھ کر سب کی آنکھیں اشکبار ہوگئی تھیں حیرت کی بات یہ تھی کہ ان مساجد کو منہدم کرنے کی کوئی سماجی یا سیاسی وجہ سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ یہ مساجد دور دراز پہاڑی علاقوں کی چھوٹی چھوٹی بستیوں میں واقع تھیں۔ اگرچہ لوگوں کے مکانات کچی تعمیرات پر مشتمل تھے، لیکن انہوں نے بڑی مشکل سے ریتیلی زمین پر اللہ کے خوبصورت اور پختہ گھر تعمیر کیے تھے۔آج کے فیصلے پر جمعیۃ علمائ راجستھان کے ذمہ داران بالخصوص جمعیۃ علمائ ہند کے نائب صدرامیر شریعت قاری محمد امین پوکرن، جمعیۃ علمائ راجستھان کے صدر حضرت مولانا حبیب اللہ قاسمی، جنرل سکریٹری مولانا عبدالواحد کھتری، نائب صدور مولانا محمد نعمان قاسمی، مولانا محمد یونس قاسمی اور حافظ منظور علی خان، سکریٹریز مولانا محمد ایوب قاسمی اور مولانا محمد ارشد قاسمی، نیز ناظمِ تنظیم مولانا محمد الیاس قاسمی اور مولانا محمد ابراہیم غفوری سمیت تمام صوبائی و ضلعی ذمہ داران نے امید ظاہر کی ہے کہ اس علاقے میں ہندو و مسلم اتحاد قائم رہے گا اور سرکار اپنے برے ارادے سے بازآئے گی ۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande