غازی آباد پولیس چوکی میں دھماکے کی اے ٹی ایس نے جانچ شروع کی، تحریک المجاہدین ہند نے ذمہ داری قبول کی
غازی آباد، 7 نومبر (ہ س)۔ اترپردیش کے ضلع غازی آباد کی وسندھرا پولیس چوکی میں جمعہ کی رات ہوئے دھماکے کی ذمہ داری ’تحریک المجاہدین ہند‘ نامی ایک تنظیم نے قبول کی ہے۔ اتر پردیش کی اے ٹی ایس اور دیگر تفتیشی ایجنسیوں نے واقعے کی جانچ تیز کر دی ہے۔
واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے پولیس کمشنر جے رویندر گوڑ


غازی آباد، 7 نومبر (ہ س)۔ اترپردیش کے ضلع غازی آباد کی وسندھرا پولیس چوکی میں جمعہ کی رات ہوئے دھماکے کی ذمہ داری ’تحریک المجاہدین ہند‘ نامی ایک تنظیم نے قبول کی ہے۔ اتر پردیش کی اے ٹی ایس اور دیگر تفتیشی ایجنسیوں نے واقعے کی جانچ تیز کر دی ہے۔

غازی آباد کے پولیس کمشنر جے رویندر گوڑ اور یو پی اے ٹی ایس کی ٹیم کے علاوہ کئی اعلیٰ افسران نے ہفتہ کو پولیس چوکی کا دورہ کیا۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ یہ حادثہ تھا یا کوئی سازش۔

اسی دوران ایک تنظیم نے سوشل میڈیا پر وسندھرا پولیس چوکی کے اندر ہوئے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے، تاہم پولیس کی جانب سے اب تک اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ یو پی اے ٹی ایس اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کی ٹیمیں واقعے کی جانچ کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹ کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

پولیس کمشنر نے صحافیوں کو بتایا کہ جمعہ کی رات اطلاع ملی تھی کہ اندرا پورم تھانہ علاقے کے تحت آنے والی وسندھرا پولیس چوکی کی پچھلی دیوار کے قریب دھماکہ ہوا ہے۔ اس وقت وہاں موجود ایک سب انسپکٹر اور ایک ڈیلیوری بوائے زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے بعد جانچ شروع کی گئی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ، فیلڈ یونٹ اور فارنسک ٹیم اب بھی موقع سے شواہد جمع کر رہی ہیں۔ جانچ میں اب تک دھماکے کی وجہ کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ دھماکہ کس طرح ہوا۔ سامان پہنچانے آئے ایک ڈیلیوری بوائے کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔

اے ٹی ایس کی جانچ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران دیگر تمام پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ اترپردیش پولیس سمیت کئی دیگر ایجنسیوں کی ٹیمیں بھی موقع پر موجود ہیں اور باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے۔ وسندھرا پولیس چوکی میں ہوئے دھماکے کی تحقیقات کے لیے ہفتہ کو بم ناکارہ بنانے والے دستے نے نمونے جمع کیے ہیں۔ شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دھماکہ دھماکہ خیز مواد کے استعمال سے ہوا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande