
نئی دہلی، 7 نومبر (ہ س):۔
ریلوے وزیر اشونی ویشنو نے ہفتہ کے روز کہا کہ دیوالی اور چھٹھ سمیت تہواروں کے موسم میں مسافروں کی بڑھتی ہوئی بھیڑ کو دیکھتے ہوئے ریلوے نے تقریباً 18 ہزار اضافی خصوصی ٹرینیں چلائی ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف ریلوے اسٹیشنوں پر تقریباً 700 مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی کیمرے نصب کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے بھیڑ پر نظر رکھی جارہی ہے۔ مسافروں کی سہولت کے لیے تقریباً 20 اہم اسٹیشنوں پر ہولڈنگ ایریا بھی بنائے گئے ہیں۔
ریلوے وزیر نے ریل بھون میں ریلوے کے وار روم کی تیاریوں اور آپریشنل انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ درگا پوجا، دیوالی اور چھٹھ کے دوران ریلوے پر ٹریفک کا دباو¿ کافی بڑھ جاتا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ریلوے نے گزشتہ چھ ماہ سے تیاریاں شروع کردی تھیں۔
گزشتہ سال تہواروں کے موسم میں تقریباً 12 ہزار خصوصی ٹرینیں چلائی گئی تھیں، جبکہ اس سال ان کی تعداد بڑھا کر تقریباً 18 ہزار کردی گئی ہے۔ ان میں کئی خصوصی ٹرینوں کو مستقل سروس میں بھی تبدیل کردیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں ریلوے نے تقریباً 75 ہزار خصوصی ٹرینیں چلائی تھیں، جبکہ جاری مالی سال میں ان کی تعداد 80 ہزار سے تجاوز کرنے والی ہے۔ ریلوے کی کوشش ہے کہ تہواروں کے دوران مسافروں کو اپنے گھروں تک پہنچنے میں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو اور بھیڑ کا منظم طریقے سے انتظام کیا جاسکے۔
ریلوے وزیر نے کہا کہ مسافروں کی سہولت کے لیے تقریباً 20 اسٹیشنوں پر الگ سے ہولڈنگ ایریا بنائے گئے ہیں، جہاں مسافر اپنی ٹرین کی روانگی سے پہلے آرام سے انتظار کرسکتے ہیں۔ ان مقامات پر ٹکٹ کاو¿نٹر بھی منتقل کیے گئے ہیں، تاکہ مسافروں کو ٹکٹ لینے کے لیے اسٹیشن کے اندر جانے کی ضرورت نہ پڑے۔ سکیورٹی جانچ کے دوران لمبی قطاروں سے بچنے کے لیے سامان کی جانچ کی خاطر کئی اسکیننگ کاو¿نٹر بھی قائم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ریلوے کا وار روم 24 گھنٹے کام کرتا ہے۔ یہاں ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف)، آپریشنل، مکینیکل اور الیکٹریکل محکموں کے افسران اور ملازمین تعینات رہتے ہیں۔ وار روم میں لائیو ہیٹ میپ کے ذریعے مختلف اسٹیشنوں پر مسافروں کی بھیڑ کی صورتحال پر نظر رکھی جاتی ہے۔ اس میں سبز رنگ معمول کی بھیڑ، پیلا رنگ بڑھتی ہوئی بھیڑ اور سرخ رنگ انتہائی زیادہ بھیڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ریلوے کے وزیر کے علاوہ ریلوے بورڈ کے چیئرمین اور وزارت کے سینئر افسران بھی باقاعدگی سے یہاں سے انتظامات کی نگرانی کرتے ہیں۔
ویشنو نے کہا کہ دھن تیرس کے دن نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کی کافی بھیڑ تھی، جبکہ چھوٹی دیوالی کے موقع پر صورتحال معمول کے مطابق رہی۔ چھٹھ سے تقریباً تین دن پہلے ایک بار پھر مسافروں کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے۔ اس کے پیش نظر ریلوے نے مکمل تیاریاں کرلی ہیں۔ بھیڑ کے انتظام کے لیے شکور بستی، حضرت نظام الدین، آنند وہار اور نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے آس پاس مختلف مقامات پر خصوصی ٹرینیں پہلے سے ہی تعینات کردی گئی ہیں۔
ریلوے کے وزیر کے مطابق عام دنوں میں نئی دہلی کے علاقے میں روزانہ تقریباً پانچ لاکھ مسافروں کی آمدورفت ہوتی ہے، جو تہواروں کے دوران بڑھ کر تقریباً آٹھ لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔ یکم اکتوبر سے 5 نومبر کے درمیان اس علاقے سے تقریباً دو کروڑ مسافروں نے سفر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریلوے اپنے انتظامات میں مسلسل بہتری لارہا ہے۔ گزشتہ دس برسوں کے مسافروں کی آمدورفت سے متعلق اعداد و شمار کا سائنسی تجزیہ کرکے یہ معلوم کیا گیا ہے کہ کن مقامات سے کن منزلوں کے لیے سب سے زیادہ مسافر سفر کرتے ہیں۔ اسی بنیاد پر بھیڑ کے انتظام اور خصوصی ٹرینوں کی تعیناتی کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال نئی دہلی اسٹیشن پر شروع کی گئی ’گولڈن ایریا‘ پہل کو بھی مسافروں کی جانب سے اچھا ردعمل ملا تھا۔
سوشل میڈیا پر پرانی ویڈیوز شیئر کیے جانے سے متعلق سوال پر ویشنو نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ پرانی ویڈیوز کے ذریعے لوگوں میں الجھن پیدا کرنے کی کوشش نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ کل اپوزیشن کے کچھ لوگوں نے تقریباً 78 پرانی ویڈیوز پوسٹ کی تھیں۔ اس طرح کی سرگرمیوں کے بجائے ریلوے کی بہتری کے لیے تجاویز دی جانی چاہئیں۔ کوئی بھی شہری اپنی تجاویز دے سکتا ہے اور ریلوے کھلے دل سے ان پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔
ریلوے کے وزیر نے کہا کہ تہواروں کے دوران مسافروں کی مدد کے لیے مختلف سماجی تنظیموں کو بھی ریلوے کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ ان تنظیموں کے ذریعے پینے کے پانی سمیت مسافروں کی دیگر ضروری سہولیات فراہم کرنے میں مدد لی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ بھیڑ کے موسم میں بہتر حالت میں ٹرینیں دستیاب کرانے کے لیے تقریباً چھ ماہ پہلے ہی ان کی دیکھ بھال اور مرمت کا انتظام شروع کردیا گیا تھا۔
ٹرینوں کی تاخیر اور ریلوے نیٹ ورک پر بڑھتے ہوئے دباو¿ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس وقت مسافر ٹرینوں کے ساتھ کوئلے اور دیگر سامان کی مال برداری کا بھی دباو¿ ہے۔ اس کا مستقل حل ریلوے نیٹ ورک کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں تقریباً 36 ہزار کلومیٹر اضافی ریلوے پٹریاں بچھائی گئی ہیں۔ نئی ریلوے لائنیں بچھانے اور موجودہ راستوں کی صلاحیت بڑھانے کا کام مسلسل جاری ہے۔
ویشنو نے بتایا کہ دہلی، کولکاتا، چنئی اور ممبئی کو جوڑنے والے اہم ریلوے راستوں سمیت سات اہم کوریڈورز پر چار چار ریلوے لائنیں بچھانے کا کام کیا جارہا ہے۔ ان میں دہلی-چنئی، ممبئی-کولکاتا اور دہلی-گوہاٹی جیسے ترچھے ریلوے راستے بھی شامل ہیں۔
ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد ریلوے ایک ہزار سے زیادہ اضافی مستقل ٹرینیں چلانے کے قابل ہوجائے گا۔ اس سے ویٹنگ لسٹ کا دباو¿ کم کرنے اور مسافروں کو ریزرویشن کی بہتر سہولت فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ