

بھوپال، 7 نومبر(ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ کسان اناج کی پیداوار کے ساتھ ساتھ مویشی پروری اور دودھ کی پیداوار کے ذریعے بھی اپنی آمدنی میں اضافہ کریں۔ مدھیہ پردیش آج دودھ کی پیداوار کے معاملے میں ملک میں تیسرے مقام پر ہے۔ ہم آئندہ 2 سال میں ریاست کو دودھ کی پیداوار کے معاملے میں ملک کی نمبر ون ریاست بنائیں گے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو ہفتہ کو اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں کے لیے منعقدہ دیوالی ملن تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں آج ہندوستان عالمی سطح پر اپنی نئی شناخت قائم کر رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مدھیہ پردیش ایک زرعی ریاست ہے۔ کھیتی کا مطلب صرف زرعی پیداوار حاصل کرنا ہے، جبکہ کسانی کا مطلب مویشی پروری، ماہی پروری اور باغبانی کے ذریعے اپنی معاشی حالت بہتر بنانا ہے۔ ہماری حکومت کھیتی اور کسانی دونوں کی ترقی کے لیے پوری پابندی کے ساتھ کوششیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ندیوں کو آپس میں جوڑنے کی مہم اور دیگر کوششوں کے ذریعے کھیتی باڑی اور کسانوں کی خوش حالی کے لیے آب پاشی کے رقبے میں توسیع کے کام کو رفتار دی گئی ہے۔ کسانوں کو اب دن کے وقت بھی 10 گھنٹے بجلی فراہم کرنے کا آغاز کیا گیا ہے۔ کسانوں اور مویشی پالنے والوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے ریاست میں دودھ کی پیداوار کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریاست کی گرام پنچایتوں میں دودھ جمع کرنے کے لیے ڈیری کوآپریٹو کمیٹیاں تشکیل دی جا رہی ہیں۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے ریاست کے تمام باشندوں کو دیوالی اور گووردھن پوجا کی مبارک باد اور نیک تمنائیں پیش کیں۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ دفتر کے ایڈیشنل چیف سکریٹری نیرج منڈلوئی، محکمہ رابطہ عامہ کے کمشنر منیش سنگھ، ایڈیشنل سکریٹری اروند دوبے سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت ’مکھیہ منتری رجسٹری یوجنا‘ کے تحت دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو ان کی جائیداد کا قانونی ملکیتی حق فراہم کر رہی ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے کسانوں اور گاوں والوں کو آزادی کے بعد پہلی مرتبہ اپنی ملکیت کی جائیداد کے رجسٹرڈ دستاویزات حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دھن تیرس کے موقع پر جمعہ کو جب وہ مرینا ضلع کے ایک گاؤں میں رجسٹری اسکیم کے مستفیدین سے ملے تو اپنی جائیداد پر قانونی ملکیتی حق حاصل کرنے کی کارروائی مکمل ہونے پر دیہی باشندے پہلی بار جذباتی ہو گئے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت تمام 55 اضلاع میں پی ایم ایکسیلنس کالج قائم کیے گئے ہیں۔ سانڈی پانی اسکولوں کے ذریعے معیاری تعلیم اور وزیر اعلیٰ سہل ٹرانسپورٹ سروس کے ذریعے عوامی نقل و حمل کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میڈیکل کالجوں کی تعداد بڑھانے اور ڈاکٹروں کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ منڈلا اور بالاگھاٹ میں بھی میڈیکل کالج تعمیر کیے جا رہے ہیں، جہاں اسی تعلیمی سیشن سے داخلے شروع کیے جائیں گے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / انظر حسن