ٹرمپ کا اعتراف، امریکہ نے ایران کے جزیرہ قیشم کے قریب حملہ کرکے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا
واشنگٹن، 7 نومبر (ہ س/ریا نووستی)۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے جزیرہ قیشم کے قریب ایک فضائی دفاعی یونٹ کو نشانہ بنا کر حملہ کیا تھا، جس کے بعد وہ ناکارہ ہوگیا۔
ایران کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، ٹرمپ نے حملے کے امکان کو خارج نہیں کیا


واشنگٹن، 7 نومبر (ہ س/ریا نووستی)۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے جزیرہ قیشم کے قریب ایک فضائی دفاعی یونٹ کو نشانہ بنا کر حملہ کیا تھا، جس کے بعد وہ ناکارہ ہوگیا۔ تاہم، انہوں نے اس فوجی کارروائی کو محدود پیمانے کا حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج نے محض چند منٹوں میں اپنے ہدف کو تباہ کر دیا۔

جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب جزیرہ قیشم کے قریب ہونے والے حملوں میں امریکہ کے کردار سے متعلق سوالات پر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ چھوٹے پیمانے پر حملے کرتا ہے، لیکن اس کے مخالفین کی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں۔

ٹرمپ کے مطابق ایران نے ایک طیارہ شکن نظام تیار کیا تھا، جسے امریکی فوج نے چند ہی منٹوں میں تباہ کر دیا۔ انہوں نے اس کارروائی کو امریکی فوجی صلاحیت کی مثال قرار دیا۔اس سے قبل ایران کے پریس ٹی وی چینل نے جنوبی ایران کے جزیرہ قیشم میں سلسلہ وار دھماکوں کی خبر دی تھی۔ اس کے بعد ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام نے علاقے میں ایک امریکی ایم کیو-9 ریپر ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔ایرانی فوج اس سے پہلے بھی متعدد مرتبہ امریکی ڈرونز کو روکنے اور مار گرانے کے دعوے کر چکی ہے۔ تاہم، اس تازہ واقعے کے حوالے سے امریکہ اور ایران کے بیانات میں تضاد سامنے آیا ہے۔واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے فوجی حملے شروع کیے تھے۔ اس کے جواب میں ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کی تھیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے ہونے والی جنگ بندی جولائی 2026 میں ختم ہو گئی تھی، جس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande