
علی گڑھ، 07 نومبر (ہ س)۔ اے ایم یو کے ریسرچ اسکالر احسان الحق نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، نئی دہلی میں منعقدہ اولین بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ‘‘بیسویں اور اکیسویں صدی میں دنیا میں نوجوانوں کے بیانیے اور ثقافتی روایات’’ میں اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا اور کانفرنس کی کارروائی کی رپورٹ تیار کرنے کی خدمات بھی انجام دیں۔
یہ کانفرنس جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے اسکول آف لینگویج، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز کے مرکز برائے ہسپانوی، پرتگالی، اطالوی اور لاطینی امریکی مطالعات نے انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ اور دیگر تعلیمی اداروں کے اشتراک سے منعقد کی۔
احسان الحق نے ‘‘تارکین وطن نوجوان: عبدالرزاق گرنہ کے ناولوں میں ہجرت، بے وطنی اور شناخت کی تشکیل’’ کے عنوان سے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا جس میں ناولوں ‘‘پیراڈائز’’، ‘‘آفٹر لائیوز’’ اور ‘‘بائی دی سی’’ کے تقابلی مطالعہ کے ذریعہ نقل مکانی، شناخت اور وابستگی کے موضوعات کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق میں ہومی بھابھا، جیورجیو اگامبین، ہنّا آرنٹ، اچیلے مبیمبے، اسٹورٹ ہال اور پال گلرائے کے تصورات سے استفادہ کیا گیا۔
احسان الحق نے کانفرنس میں علمی نشست کی کارروائی کو قلم بند کیا اور مباحثوں کے اہم نکات اور تلخیص کو مرتب کیا۔ انھوں نے اپنے نگراں پروفیسر محمد عاصم صدیقی کی رہنمائی اور تعاون کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / سید کامران علی گڑھ