ایلون مسک کا اے آئی سرورز اور ڈیٹا سینٹرز کو خلا میں منتقل کرنے کا مشورہ
واشنگٹن، 07 نومبر (ہ س)۔ امریکی صنعت کار ایلون مسک نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی کے لیے استعمال ہونے والے سرورز اور ڈیٹا سینٹرز کو زمین کے مدار میں منتقل کرنا ضروری ہے۔ وہاں انہیں سولر پینلز کے ذریعے مسلسل بجلی فراہم کی جا سکے گی، جس س
ایلون مسک کا اے آئی سرورز اور ڈیٹا سینٹرز کو خلا میں منتقل کرنے کا مشورہ


واشنگٹن، 07 نومبر (ہ س)۔ امریکی صنعت کار ایلون مسک نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی کے لیے استعمال ہونے والے سرورز اور ڈیٹا سینٹرز کو زمین کے مدار میں منتقل کرنا ضروری ہے۔ وہاں انہیں سولر پینلز کے ذریعے مسلسل بجلی فراہم کی جا سکے گی، جس سے زمین کے بجلی کے نظام پر اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔

سرمایہ کار رون بیرن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مسک نے کہا کہ اگر ہمیں سالانہ ایک ٹیراواٹ یا 200 گیگاواٹ بجلی کی سطح تک پہنچنا ہے تو خلا کا رخ کرنا ہوگا، کیونکہ زمین پر اتنی بجلی دستیاب نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں بجلی کی اوسط کھپت 500 گیگاواٹ سے کچھ زیادہ ہے۔ اگر اے آئی کے لیے ہر سال مزید 200 گیگاواٹ بجلی کی ضرورت پڑے تو امریکی پاور گرڈ کی صلاحیت میں سالانہ 40 فیصد اضافہ کرنا ہوگا، جو ممکن نہیں ہے۔

مسک نے کہا کہ خلا میں سولر پینل لگانے سے مسلسل سورج کی روشنی حاصل ہوگی اور انہیں ہمیشہ سورج کی جانب رکھا جا سکے گا۔ وہاں ماحول نہ ہونے کی وجہ سے شمسی توانائی میں کمی نہیں آئے گی اور زمین کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ شمسی توانائی حاصل ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ خلا میں موسم کی تبدیلی کا کوئی اثر نہیں ہوگا اور رات کے لیے بجلی ذخیرہ کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی، جس سے بڑی بیٹریوں کی ضرورت ختم ہو سکتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande