الٰہ آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر غازی آباد کے مدرسہ جامعہ خلفائے راشدین سے سیل ہٹائی گئی، اے پی سی آر کی قانونی جدوجہد کامیاب
عدالتی مداخلت کے بعد مدرسے کا قبضہ انتظامی کمیٹی کو واپس، 6 جون کو سیل کیے گئے ادارے کو پانچ ماہ بعد قانونی راحت، اساتذہ کو بھی پہلے ہی مل چکی ہے ضمانت۔ غازی آباد، 07نومبر ذ(ہ س)۔ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) اتر پردیش چیپٹ
الٰہ آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر غازی آباد کے مدرسہ جامعہ خلفائے راشدین سے سیل ہٹائی گئی، اے پی سی آر کی قانونی جدوجہد کامیاب


عدالتی مداخلت کے بعد مدرسے کا قبضہ انتظامی کمیٹی کو واپس، 6 جون کو سیل کیے گئے ادارے کو پانچ ماہ بعد قانونی راحت، اساتذہ کو بھی پہلے ہی مل چکی ہے ضمانت۔

غازی آباد، 07نومبر ذ(ہ س)۔

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) اتر پردیش چیپٹر کی قانونی مداخلت اور الٰہ آباد ہائی کورٹ میں مؤثر پیروی کے نتیجے میں غازی آباد کے اندراپورم میں واقع مدرسہ جامعہ خلفائے راشدین کو بڑی قانونی راحت ملی ہے۔ عدالت عالیہ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے مدرسے کی سیل ہٹا دی ہے اور اس کی عمارت کا قبضہ دوبارہ مدرسہ انتظامیہ کمیٹی کے حوالے کرنے کی کارروائی مکمل کر دی ہے۔ یہ پیش رفت مدرسے کو 6 جون 2026ء کو سیل کیے جانے کے تقریباً پانچ ماہ بعد سامنے آئی ہے۔

اس معاملے میں اے پی سی آر کی جانب سے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن نمبر 25563/2026 دائر کی گئی تھی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران 30 اکتوبر 2026ء کو عدالت نے متعلقہ ریاستی حکام کو ہدایت دی تھی کہ اگر دو ہفتوں کے اندر درخواست گزار کے خلاف کوئی منفی حکم جاری نہیں کیا جاتا ہے تو مدرسے کی سیل کھول دی جائے۔ عدالت نے مقررہ مدت کے اندر جاری کیے جانے والے کسی بھی حکم کے قانونی نتائج بھی واضح کر دیے تھے۔ چنانچہ عدالتی ہدایات کی تعمیل میں ضلع اقلیتی بہبود افسر، غازی آباد نے مدرسے سے سیل ہٹانے اور اس کا قبضہ انتظامی کمیٹی کو واپس سونپنے کے اقدامات کیے۔

واضح رہے کہ مدرسے کو سیل کرنے کا معاملہ غازی آباد کی میئر سنیتا دیال کی جانب سے ہنڈن ندی میں گائے کا گوشت پھینکے جانے کے الزام کے بعد سامنے آیا تھا۔ اے پی سی آر کے مطابق، اس تنازع کے دوران مدرسے میں زیر تعلیم کم عمر طلبہ کو راستے میں روک کر ہراساں اور خوف زدہ کیا گیا۔ تنظیم نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ انتظامی دباؤ کے نتیجے میں مدرسے کے اساتذہ کے خلاف جھوٹے مجرمانہ مقدمات درج کرائے گئے، انہیں گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا اور بعد ازاں مدرسے کو بھی غیر قانونی طور پر سیل کر دیا گیا۔

مدرسے کے اساتذہ کو الٰہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد اب عدالتی ہدایات کی روشنی میں مدرسے کی سیل بھی ختم کر دی گئی ہے۔ اس طرح طویل قانونی جدوجہد کے بعد مدرسہ انتظامیہ کو اپنے ادارے کا انتظام دوبارہ سنبھالنے کا موقع ملا ہے۔

اس مقدمے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے روبرو اے پی سی آر کی جانب سے ایڈووکیٹ محمد خالد اور ایڈووکیٹ عمر خالد نے پیروی کی، جبکہ غازی آباد میں تنظیم کی نمائندگی ایڈووکیٹ ندیم اختر نے کی۔

اے پی سی آر نے اس پیش رفت کو شہری حقوق کے تحفظ اور انتظامی اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کے خلاف آئینی و قانونی جدوجہد کی اہم کامیابی قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق، کسی بھی تعلیمی ادارے کے خلاف انتظامی کارروائی قانون کے طے شدہ تقاضوں اور آئینی ضمانتوں کے مطابق ہونی چاہیے، جبکہ کسی بھی شہری یا ادارے کو من مانی کارروائی کا نشانہ بنانا قانون کی حکمرانی کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

تنظیم نے واضح کیا کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق، اقلیتوں کے آئینی و قانونی تحفظ اور انتظامی جواب دہی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، تاکہ قانون کے دائرے سے تجاوز کرنے والی کارروائیوں کا مؤثر قانونی محاسبہ ممکن ہو سکے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande