امریکہ میں مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم بچوں کی صحت اور تعلیم کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے: ماہرین
واشنگٹن، 7 نومبر (ہ س/ریا نووستی)۔ امریکہ میں مستقل طور پر ڈے لائٹ سیونگ ٹائم (گرمیوں کے موسم کا وقت) نافذ کرنے کی تجویز پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ میں مستقل طور پر ڈے لائٹ سیونگ ٹائم نافذ کیا
امریکہ میں مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم بچوں کی صحت اور تعلیم کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے: ماہرین


واشنگٹن، 7 نومبر (ہ س/ریا نووستی)۔ امریکہ میں مستقل طور پر ڈے لائٹ سیونگ ٹائم (گرمیوں کے موسم کا وقت) نافذ کرنے کی تجویز پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ میں مستقل طور پر ڈے لائٹ سیونگ ٹائم نافذ کیا گیا تو اس کا بچوں اور نوعمروں کی نیند، تعلیم، ذہنی صحت اور سلامتی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ سردیوں میں سورج دیر سے نکلنے کے باعث بچوں کو اندھیرے میں بیدار ہونا اور اسکول جانا پڑ سکتا ہے۔

امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن کے مطابق مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم نافذ ہونے سے سورج طلوع ہونے کا وقت مزید تاخیر سے ہوگا۔ اس کے نتیجے میں بچوں اور نوعمروں کو صبح بیدار ہونے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی سیکھنے کی صلاحیت اور اسکول جاتے وقت سلامتی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ معیاری وقت (اسٹینڈرڈ ٹائم)انسانی جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی کے زیادہ مطابق ہے، جب کہ مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم سے جسم کی سرکیڈین ردھم یعنی سونے اور جاگنے کا قدرتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کا اثر نیند، مزاج اور مجموعی صحت پر پڑنے کا خدشہ ہے۔امریکہ میں ہر سال نومبر کے پہلے اتوار کو ڈے لائٹ سیونگ ٹائم ختم کرکے گھڑیوں کو دوبارہ معیاری وقت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اس سال یہ تبدیلی یکم نومبر کو کی گئی۔

اس سے قبل 4 اکتوبر کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وقت میں تبدیلی کے موجودہ نظام کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے حوالے سے بھی اپنی ناراضگی ظاہر کی تھی۔مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم نافذ کرنے کی تجویز فی الحال امریکی پارلیمنٹ میں زیر بحث ہے۔ رواں سال کے آغاز میں ایوانِ نمائندگان نے اس کی حمایت میں ووٹ دیا تھا، تاہم متعلقہ بل ابھی سینیٹ میں زیر غور ہے۔امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن کا موقف ہے کہ مستقل معیاری وقت کو ترجیح دی جانی چاہیے، کیونکہ یہ سورج کے قدرتی نظام کے ساتھ زیادہ بہتر مطابقت رکھتا ہے۔ اس سے لوگوں کی نیند اور صحت کو محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اب اس معاملے پر امریکی سینیٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande