اردو اکادمی، دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے:غزل سرائی مقابلہ برائے مڈل زمرہ میں 44 طلبہ و طالبات کی شرکت،امنگ پینٹنگ مقابلہ 15 نومبر کو منعقد ہوگا
نئی دہلی6 نومبر(ہ س)۔ اردو اکادمی، دہلی اسکولوں کے طلبہ و طالبات میں تعلیم کا ذوق و شوق پیدا کرنے، ان کی تخلیقی و ادبی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے اور ان میں صحت مند مسابقت کا جذبہ پروان چڑھانے کے لیے ہر سال مختلف تعلیمی و ثقافتی مقابلوں کا انعقاد کرتی
اردو اکادمی


اردو اکادمی، دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے:غزل سرائی مقابلہ برائے مڈل زمرہ میں 44 طلبہ و طالبات کی شرکت،امنگ پینٹنگ مقابلہ 15 نومبر کو منعقد ہوگا


نئی دہلی6 نومبر(ہ س)۔

اردو اکادمی، دہلی اسکولوں کے طلبہ و طالبات میں تعلیم کا ذوق و شوق پیدا کرنے، ان کی تخلیقی و ادبی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے اور ان میں صحت مند مسابقت کا جذبہ پروان چڑھانے کے لیے ہر سال مختلف تعلیمی و ثقافتی مقابلوں کا انعقاد کرتی ہے۔ ان مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کو اول، دوم اور سوم انعامات سے نوازنے کے علاوہ حوصلہ افزائی کے انعامات بھی دیے جاتے ہیں۔ ان مقابلوں میں تقریری، فی البدیہہ تقریری، بیت بازی، اردو ڈراما، غزل سرائی، کوئز (سوال و جواب)، مضمون نویسی، خطوط نویسی، خوش خطی، بلند خوانی، گروپ سانگ اور امنگ پینٹنگ کے مقابلے شامل ہیں۔ یہ مقابلے دہلی کے پرائمری سے لے کر سینئر سیکنڈری سطح تک کے اردو اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے درمیان منعقد کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ یکم نومبر کو منعقد ہونے والا امنگ پینٹنگ مقابلہ بعض ناگزیر وجوہ کی بنا پر ملتوی کر دیا گیا تھا، جو اب 15 نومبر کو منعقد ہوگا۔ اس طرح اکادمی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

آج غزل سرائی مقابلہ برائے مڈل زمرہ (چھٹی تا آٹھویں جماعت) منعقد ہوا، جس میں دہلی کے30 اسکولوں سے تعلق رکھنے والے44 طلبہ و طالبات نے پورے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ اس مقابلے میں جناب عرفان اعظمی اور ڈاکٹر عادل حیات نے بحیثیت جج شرکت کی۔

مقابلے کے اختتام پر جج صاحبان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزل سرائی ایک ایسی فنّی صلاحیت ہے جس میں صرف اشعار کی خوش آہنگ قرآت ہی کافی نہیں، بلکہ شاعر کے خیال، شعر کی معنویت، اس کے جذباتی پس منظر اور زبان و بیان کی لطافت کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ ا?ج کے مقابلے میں طلبہ و طالبات نے نہایت شوق، اعتماد اور تیاری کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ تاہم ایک مو¿ثر اور معیاری پیشکش کے لیے درست تلفظ، مناسب زیر و بم، الفاظ کی واضح ادائیگی اور شعر کے مفہوم سے واقفیت پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ غزل کے اشعار کی پیشکش میں آواز کا اتار چڑھاو¿، ٹھہراو¿ اور جذبات کی مناسب ترجمانی بھی اہمیت رکھتی ہے۔ بعض اوقات درست شعر بھی محض تلفظ یا ادائیگی کی معمولی لغزش کے سبب اپنا مطلوبہ اثر پیدا نہیں کر پاتا۔ اس لیے طلبہ کو چاہیے کہ وہ غزلیں یاد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے معنی و مفہوم کو بھی سمجھیں اور اشعار کی مسلسل مشق کریں۔ اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی تربیت کے دوران اردو کے صحیح تلفظ اور شعری آہنگ کی باریکیوں پر توجہ دیں۔

انھوں نے اردو اکادمی، دہلی کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسکولی سطح پر اس طرح کے مقابلوں کا انعقاد اردو زبان و ادب کے فروغ اور نئی نسل میں ادبی ذوق و شوق پیدا کرنے کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے مقابلے طلبہ و طالبات کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرنے کے ساتھ ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے اور ان کے ادبی شعور کو جِلا بخشنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اردو اکادمی، دہلی اسکولی طلبہ کو اپنی ادبی و تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار اور انھیں نکھارنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے، جو لائقِ تحسین ہے۔ انھوں نے اس بامقصد ادبی و تعلیمی سرگرمی کے انعقاد پر اردو اکادمی، دہلی کو مبارک باد پیش کی۔

جج صاحبان کے فیصلے کے مطابق ادب بنت پرویز ظہور احمد (حکیم اجمل خاں گرلز پبلک اسکول، دریا گنج) نے اول مقام حاصل کیا۔ دوم انعام کے لیے صبیحہ بنت شمیم احمد (کریسنٹ اسکول، دریا گنج) اور عائشہ بنت عبدالعلی (رابعہ گرلز پبلک اسکول، گلی قاسم جان) کو منتخب کیا گیا۔سوم انعام کے حق دار سارہ بنت عبدالقادر،ہدیٰ بنت عبدالباری (الفلاح اسلامک اسکول، شمالی گھونڈہ) اور عفیفہ بنت فہیم پرویز (سید عابد حسین سینئر سیکنڈری اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ) قرار پائے۔

جب کہ حوصلہ افزائی کے انعامات کے لیے سید محمد علی ولد محمد معظم (کریسنٹ اسکول، دریا گنج)، محمد ابراہیم ولد مستقیم (اینگلو عربک سینئر سیکنڈری اسکول، اجمیری گیٹ)، نبیہ بنت محمد عامر (حکیم اجمل خاں گرلز سینئر سیکنڈری اسکول، دریا گنج)، مصباح ولد ریاض اللہ (نیو ہورائزن اسکول، نظام الدین) اور انیسہ عارف بنت محمد عارف گنائی (جامعہ مڈل اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ) کو منتخب کیا گیا۔

مقابلے کے دوران دہلی حکومت کے دفاتر کے دورے پر آئے ہوئی کچھ نو منتخب دانکس (DANICS) افسران نے اردو اکادمی، دہلی کا بھی دورہ کیا۔ انھوں نے اکادمی کی جانب سے منعقد کیے جانے والے اس نوعیت کے پروگراموں کو سراہا۔ اس موقع پر جج صاحبان کے ہمراہ ان افسران کے ہاتھوں بھی انعام یافتہ طلبہ و طالبات کو بطورِ یادگار ٹوکن انعامات پیش کیے گئے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande