سی او پی 31 سے قبل یونیسیف کی نیپال حکومت سے اپیل، ماحولیاتی پالیسیوں میں بچوں کے حقوق اور ضروریات کو ترجیح دی جائے
کاٹھمنڈو، 6 نومبر(ہ س)۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے یونیسیف نے اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس(کانفرنس آف دی پارٹیز-31/سی او پی 31) سے قبل نیپال حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق
سی او پی 31 سے قبل یونیسیف کی نیپال حکومت سے اپیل، ماحولیاتی پالیسیوں میں بچوں کے حقوق اور ضروریات کو ترجیح دی جائے


کاٹھمنڈو، 6 نومبر(ہ س)۔

اقوام متحدہ کی جانب سے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے یونیسیف نے اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس(کانفرنس آف دی پارٹیز-31/سی او پی 31) سے قبل نیپال حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پالیسیوں، موافقتی منصوبوں، آفات کے خطرات کو کم کرنے کی حکمت عملیوں اور ماحولیاتی مالیاتی نظام میں بچوں کی ضروریات اور حقوق کو ترجیح دے۔

یونیسیف نیپال نے حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں اور ماحولیاتی مالیاتی اداروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کی ضروریات کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ کریں۔ادارے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ صحت کی خدمات، غذائیت، صاف پینے کے پانی، صفائی ستھرائی، تعلیم، بچوں کے تحفظ اور سماجی تحفظ کے نظام کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے قابل بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ان خدمات تک رسائی یقینی بناتے وقت بچوں کی عمر، جنس اور معذوری سے متعلق ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔یونیسیف نے قومی اور مقامی حکومتوں سے بچوں پر مرکوز ماحولیاتی خطرات سے متعلق اعداد و شمار اور شواہد کی بنیاد پر منصوبے تیار کرنے اور ان علاقوں و برادریوں کو ترجیح دینے کی اپیل کی ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر اور حساس ہیں۔

اس کے علاوہ نجی شعبے سے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات برداشت کرنے کے قابل بنیادی ڈھانچے، صاف توانائی کے حل اور بچوں کی فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے نئی اختراعات میں تعاون کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ادارے نے تمام متعلقہ فریقوں سے مقامی، قومی اور عالمی سطح پر ماحولیاتی فیصلے کرنے کے عمل میں بچوں اور نوجوانوں کی بامعنی شرکت یقینی بنانے پر بھی زور دیا ہے۔یونیسیف کی رپورٹ میں بچوں اور نوجوانوں کی آواز سنے جانے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بچے اور نوجوان پہلے ہی مقامی سطح پر ماحولیاتی اقدامات کی قیادت کر رہے ہیں اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یونیسیف نیپال کی کلائمیٹ ایکشن یوتھ ایڈوکیٹ جینتی بم نے کہا کہ ’’موسمیاتی تبدیلی بچوں کے لیے مستقبل کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ آج ہی ہماری زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ جب سیلاب سے اسکولوں کو نقصان پہنچتا ہے تو بچے صرف اپنی کلاسیں ہی نہیں کھوتے، بلکہ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع، روزمرہ کی معمولات، دوستیاں اور تحفظ کا احساس بھی ان سے چھن جاتا ہے۔

جینتی بم نے مزید کہا کہ نوجوان اس مسئلے کے حل کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے فیصلہ سازوں سے اپیل کی کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل اسکولوں اور خدمات میں سرمایہ کاری کریں، بچوں کی آواز سنیں اور انہیں اپنے مستقبل سے متعلق فیصلے کرنے کے عمل میں بامعنی شرکت کا موقع فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور پائیدار اقدامات کیے جاسکیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande