فیس بک لائیو کے بعد قبائلی رہنما نشا بھگت نے خودکشی کی
۔ فیس بک پوسٹ میں جھارکھنڈ پولیس کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔ بی جے پی رہنما بابولال مرانڈی اور مرکزی وزیر سنجے سیٹھ نے اٹھائے سوال رانچی، 6 نومبر (ہ س)۔ جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں قبائلی رہنما اور سماجی کارکن نشا بھگت نے جمعہ کو پھندے سے لٹک کر خود
JH-TRIBAL-LEADER-NISHA-SUCIDE


۔ فیس بک پوسٹ میں جھارکھنڈ پولیس کو ذمہ دار ٹھہرایا

۔ بی جے پی رہنما بابولال مرانڈی اور مرکزی وزیر سنجے سیٹھ نے اٹھائے سوال

رانچی، 6 نومبر (ہ س)۔ جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں قبائلی رہنما اور سماجی کارکن نشا بھگت نے جمعہ کو پھندے سے لٹک کر خودکشی کرلی۔ اس سے پہلے وہ فیس بک لائیو پر آئی تھیں۔ اس دوران انہوں نے روتے ہوئے جھارکھنڈ حکومت، پولیس اور مبینہ زمین دلالوں پر کئی الزامات عائد کیے۔ فیس بک لائیو کے دوران انہوں نے پولیس کو فون کرکے اپنی جان دینے کی بات بھی کہی تھی۔

واقعے کے بعد انہیں علاج کے لیے قریبی اسپتال لے جایا گیا، لیکن ڈاکٹروں نے انہیں بچانے میں ناکامی ظاہر کی۔ ڈاکٹروں کے مطابق، اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی ان کی موت ہوچکی تھی۔ اس کے بعد پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے رمس بھیج دیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر بی جے پی کے سینئر رہنما بابولال مرانڈی بھی رمس پہنچے۔

دوسری جانب پٹھوریا تھانے کی پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔ پولیس کے مطابق، نشا کے پاس سے کوئی تحریری خودکشی نوٹ برآمد نہیں ہوا ہے۔ تاہم، فیس بک لائیو ویڈیو میں انہوں نے زمین مافیا کے خلاف اپنی جدوجہد، سرنا-سناتن سے جڑے مسائل اور نظام سے متعلق سوالات کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے مشنری، پیسے اور زمین کے حوالے سے بھی اپنی باتیں رکھی تھیں۔

خودکشی سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے نشا نے فیس بک پر ایک پوسٹ بھی شیئر کی تھی۔ اس میں انہوں نے لکھا تھا، ’میری موت کی ذمہ دار جھارکھنڈ پولیس ہے۔ نہ مشنری سے ڈرتے ہیں، نہ پیسوں سے بکتے ہیں۔ حکومت کسی کی بھی ہو، زمین ہماری ہے، جان ہماری ہے۔‘

نشا بھگت پٹھوریا تھانہ علاقے کے ڈہوٹولی گاو¿ں کی رہنے والی تھیں۔ ان کی شناخت قبائلی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی رہنما کے طور پر تھی۔ وہ سرنا مذہب سے متعلق مسائل پر بھی کھل کر اپنی بات رکھتی رہی تھیں۔ گزشتہ سال اسی معاملے کو لے کر احتجاج کے دوران انہوں نے اپنے سر کے بال منڈوا لیے تھے۔ سال 2024 کے اسمبلی انتخابات میں انہوں نے گملا سیٹ سے جھارکھنڈ لوکتانترک کرانتی کاری مورچہ (جے ایل کے ایم) کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا تھا، تاہم وہ چوتھے مقام پر رہی تھیں۔

نشا بھگت کی موت کی اطلاع ملنے کے بعد رانچی کے رکن پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ، جے ایل کے ایم رہنما دیویندر ناتھ مہتو سمیت کئی افراد رمس کے پوسٹ مارٹم ہاو¿س پہنچے۔ سنجے سیٹھ نے واقعے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ریاست میں زمین مافیا کو مبینہ طور پر مل رہی چھوٹ اور بگڑتی ہوئی نظم و نسق کی صورت حال پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے پٹھوریا تھانہ انچارج کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

وہیں، بی جے پی رہنما اور اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بابولال مرانڈی نے واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی سماج کے حقوق کی لڑائی لڑنے والی اور سماج کی ایک توانا آواز رہی نوجوان رہنما نشا بھگت کی خودکشی کی خبر افسوسناک ہے۔ انہوں نے اس کے لیے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین، پٹھوریا تھانہ انچارج اور اجے تِرکی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

مرانڈی نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ کے اشارے پر کچھ دلال قبائلیوں کی زمین ہڑپنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ریاست کے تھانوں اور سرکل دفاتر میں زمین لوٹنے کا کھیل جاری ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نشا بھگت نے جن لوگوں کو اپنی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، انہیں جلد گرفتار کیا جانا چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande