اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کا راستہ صاف، گادی آئزنکوٹ پر سب کی نظریں
یروشلم (اسرائیل)، 6 نومبر (ہ س)۔ اسرائیل میں جمعرات کی دیر شام نئی حکومت کی تشکیل کا راستہ صاف ہو گیا۔ 11 ارکانِ پارلیمنٹ پر مشتمل عرب جماعتوں کے اتحاد ’جوائنٹ لسٹ‘ کے رہنماؤں نے صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد انہوں نے اعتدال پسند ا
اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کا راستہ صاف، گادی آئزنکوٹ پر سب کی نظریں


یروشلم (اسرائیل)، 6 نومبر (ہ س)۔ اسرائیل میں جمعرات کی دیر شام نئی حکومت کی تشکیل کا راستہ صاف ہو گیا۔ 11 ارکانِ پارلیمنٹ پر مشتمل عرب جماعتوں کے اتحاد ’جوائنٹ لسٹ‘ کے رہنماؤں نے صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد انہوں نے اعتدال پسند اتحاد کے رہنما اور سابق فوجی سربراہ 66 سالہ گادی آئزنکوٹ کی حمایت کا خط صدر کے حوالے کیا۔ آئزنکوٹ یاشار پارٹی کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال اپنی پارٹی قائم کی تھی اور رواں سال انتخابات میں حصہ لیا۔

روزنامہ ’دی یروشلم پوسٹ‘ اور ’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کی رپورٹوں کے مطابق، گزشتہ ہفتے ہونے والے کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) کے انتخابات کے بعد اپوزیشن اتحاد اور عرب سیاسی جماعتوں جوائنٹ لسٹ اور رام کی حمایت نے سیاسی صورت حال بدل دی ہے۔ ان جماعتوں کی حمایت سے آئزنکوٹ 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 ارکان کی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ عرب جماعت رام کے آٹھ ارکان ہیں، جبکہ انتخابات میں آئزنکوٹ کی قیادت والے اتحاد کے 48 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

اسرائیل میں سب سے زیادہ عرصے، یعنی 19 سال تک اقتدار میں رہنے والے بنجامن نیتن یاہو نئی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکے۔ 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں ان کے اتحاد کو 53 نشستیں ملی تھیں۔ جمعرات کو نیتن یاہو کی قیادت والے دائیں بازو کے اتحاد میں شامل سات ارکان والی جماعت ’یونائیٹڈ تورہ جوڈازم‘ (یو ٹی جے) نے اتحاد سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد سیاسی مساوات تبدیل ہو گئی اور نیتن یاہو کے دھڑے کے پاس صرف 46 ارکان رہ گئے۔ یو ٹی جے نے فی الحال کنیسٹ میں الگ بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آئزنکوٹ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو یہودی ریاست تسلیم کرتے ہوئے جمہوری نظام کے تحت ملک چلائیں گے۔ حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس کی فوجی طاقت ختم کی جائے گی۔ فوج میں بھرتی سے متعلق قوانین میں بھی تبدیلی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ملک کے قیام کے وقت شہری حقوق کے تحفظ کے لیے طے کردہ ضابطہ اخلاق پر عمل کیا جائے گا۔صدر کو آئزنکوٹ کی حمایت کا خط پیش کرنے والے جوائنٹ لسٹ اتحاد میں تین عرب جماعتیں حدش، تعل اور بلد شامل ہیں، جبکہ رام نے انتخابات میں الگ ہو کر حصہ لیا تھا۔

صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا کہ کنیسٹ کے منتخب 120 ارکان میں سے 67 نے آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کے لیے نامزد کرنے کی سفارش کی ہے۔ وہ اتوار کو انہیں حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپیں گے۔ اس کے بعد وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے اتحاد کی اپیل کی ہے۔ پارٹی نے اپنے مخالفین کو تباہ کن گروہ قرار دیا ہے۔چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، 10 نومبر کو حلف برداری کی تقریب منعقد کی جائے گی۔ حلف برداری کے بعد کنیسٹ کے نئے اسپیکر کا انتخاب ہوگا۔

کنیسٹ کے اسپیکر امیر اوہانا نے کہا ہے کہ اگر کم از کم 61 ارکانِ پارلیمنٹ باضابطہ طور پر درخواست کرتے ہیں تو وہ اپنے جانشین کے انتخاب کے لیے بحث کا وقت مقرر کریں گے۔ اوہانا کا تعلق لیکوڈ پارٹی سے ہے۔

عرب جماعتوں’ رام‘ نے آئزنکوٹ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دفاعی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ صدر ہرزوگ کے ساتھ ملاقات کے دوران اس جماعت کے رہنما منصور عباس نے حماس کو واضح طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے گریز کیا۔ تاہم، انہوں نے بارہا دہشت گردی اور سیاسی تشدد کی مذمت کی اور کہا کہ حماس سے ہتھیار چھین لیے جانے چاہئیں اور اسے اقتدار سے ہٹا دینا چاہیے۔آئزنکوٹ نے اپنی ممکنہ حکومت میں شامل ہونے کی خواہش رکھنے والی جماعتوں کے سامنے شرط رکھی ہے کہ انہیں حماس کو دہشت گرد تنظیم تسلیم کرنا ہوگا۔ منصور عباس نے امید ظاہر کی کہ آئزنکوٹ ایک اچھی حکومت تشکیل دیں گے۔

وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی اقتدار سے رخصتی تقریباً طے سمجھی جا رہی ہے۔ انہیں اسرائیل کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔

انہوں نے اپنا پہلا دورِ اقتدار 18 جون 1996 سے 6 جولائی 1999 تک مکمل کیا، جو تقریباً تین سال پر محیط تھا۔ ان کا دوسرا دورِ اقتدار 31 مارچ 2009 سے 13 جون 2021 تک جاری رہا، جو تقریباً 12 سال پر مشتمل تھا۔ ان کا تیسرا دور 29 دسمبر 2022 کو وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے ساتھ شروع ہوا تھا۔

گادی آئزنکوٹ اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ سابق فوجی سربراہ اس انتخاب میں وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے سب سے بڑے سیاسی حریف کے طور پر سامنے آئے ہیں۔آئزنکوٹ نے 1978 میں ایک عام فوجی کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ وہ 2015 سے 2019 تک اسرائیلی فوج کے 21ویں چیف آف اسٹاف رہے۔ اس عہدے پر پہنچنے والے وہ میزراحی یہودی پس منظر کے پہلے شخص ہیں۔فوجی حکمت عملی کے حوالے سے ان کا ’دحیہ نظریہ‘ خاصا مشہور ہے۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے 2022 میں سیاست میں قدم رکھا اور ستمبر 2025 میں اپنی سیاسی جماعت قائم کی۔گادی آئزنکوٹ 19 مئی 1960 کو اسرائیل کے شہر طبریہ میں پیدا ہوئے تھے۔ اب وہ ملک کی قیادت سنبھالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande