
پیرس (فرانس)، 6 نومبر (ہ س):۔
فرانس میں آج صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کے خلاف لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، کم تنخواہوں، تعلیمی بجٹ میں کٹوتی اور سرکاری خدمات کی بدحالی کے خلاف بلائی گئی ملک گیر ہڑتال میں طلبہ اور اساتذہ بھی شامل ہیں۔ حکومت کے مطابق اس احتجاج میں تقریباً 6 لاکھ افراد نے حصہ لیا، جبکہ مزدور تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 16 لاکھ ملازمین، طلبہ اور اساتذہ سڑکوں پر اترے ہیں۔
سی این این کی رپورٹ میں فرانس کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ دارالحکومت پیرس میں حالات کشیدہ ہیں۔ گزشتہ رات ’نیشن اسکوائر‘ پر مظاہرین نے مشعل بردار جلوس نکالا اور سرخ رنگ کے فلیئرز روشن کیے۔ اس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے۔ لیون شہر میں گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی، جبکہ بورڈو میں بھی سکیورٹی فورسز کو مظاہرین پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔
پورے فرانس میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 70 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ پولیس کو صورتحال پر قابو پانے کے لیے بکتر بند گاڑیوں کے علاوہ ڈرون اور ہیلی کاپٹر بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ اب تک ملک بھر میں 448 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ تشدد کے دوران درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
احتجاج کرنے والوں کے اہم مطالبات میں تنخواہوں میں اضافہ شامل ہے۔ فی الحال فرانس میں کم از کم اجرت 12.31 یورو (بھارتی کرنسی میں 1,293.90 روپے) فی گھنٹہ ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اس میں اضافہ کیا جائے۔ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ تمام ملازمین کی ماہانہ خالص تنخواہ (نیٹ سیلری) میں کم از کم 100 یورو (بھارتی کرنسی میں 10,511 روپے) کا اضافہ کیا جائے۔ اہم بات یہ ہے کہ فرانس میں نیٹ سیلری اس حقیقی رقم کو کہا جاتا ہے جو تمام سماجی تعاون اور انکم ٹیکس کی کٹوتی کے بعد ملازم کے بینک اکاو¿نٹ میں آتی ہے۔
مظاہرین نے حکومت سے ٹیکس نظام میں اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایندھن کی آسمان چھوتی قیمتوں (ایران جنگ اور عالمی بحران کے باعث ڈیزل کی قیمت 2.37 یورو یعنی بھارتی کرنسی میں 249.11 روپے فی لیٹر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے) کے پیش نظر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی اسکولوں، یونیورسٹیوں اور اسپتالوں کے عوامی بجٹ میں کی جانے والی کٹوتیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
حالات خراب ہونے کے بعد پیرس کے مشہور ایفل ٹاور اور لوور میوزیم کے کئی حصے بند کر دیے گئے ہیں۔ ملک کے تقریباً ایک تہائی ہائی اسکول یا تو مکمل طور پر بند ہیں یا جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ طلبہ نے کئی مقامات پر راستوں کی ناکہ بندی کر دی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ مظاہرین کی اپیل پر تیل کی ریفائنریوں میں کام روک دیا گیا ہے اور جوہری توانائی کے پلانٹس میں رکاوٹوں کے باعث فرانس کو بجلی درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔
یلو ویسٹ تحریک کے رابطہ گروپ نے مقامی سطح پر ناکہ بندی کرنے کی اپیل کی ہے۔ 7 نومبر کو پیرس کے ’پلیس ڈی لا کونکورڈ‘ پر بڑے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بڑھتے ہوئے دباو¿ کے پیش نظر فرانس کے وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو نے آئندہ پیر کو مزدور یونینوں اور آجرین کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی ہے۔
حکومتی اندازوں کے مطابق جمعرات کو پورے فرانس میں تقریباً 5 لاکھ 75 ہزار مظاہرین نے حصہ لیا۔ 17 اکتوبر کو محدود پیمانے پر شروع ہونے والی یہ ہڑتال اب بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہے۔ بیشتر ملازمین ہڑتال میں شامل ہیں۔ اس وجہ سے اسکولوں، یونیورسٹیوں، ریلوے اور کسی حد تک اسپتالوں میں بھی عملے کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے۔
یہ ایک ایسی تحریک بن چکی ہے جس میں ٹریڈ یونینوں اور یلو ویسٹ تحریک نے بھی شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ہر گروپ کے اپنے الگ خدشات ہیں، لیکن زندگی گزارنے کی بڑھتی ہوئی لاگت، حکومت کی عدم فعالیت، امیر اور غریب کے درمیان بڑھتا ہوا فرق اور سماجی و سیاسی تبدیلی کی گہری خواہش جیسے معاملات پر سب متحد ہیں۔
تحریک میں شامل طلبہ تنظیمیں تعلیمی بجٹ میں 10 ارب ڈالر سے زائد کے اضافے، اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے میں 1.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور یونیورسٹیوں میں ڈھائی لاکھ اضافی نشستیں فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ یورپ کے دیگر ممالک، اسپین، اٹلی، پرتگال اور بیلجیم میں بھی فرانس کی اس احتجاجی تحریک کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ