
عدالت نے مشورہ دیا کہ افسران کو دوبارہ تربیت دی جائے، جمعیة علماء ہند کی قانونی کوششوں سے اب تک 153 باعزت بری
نئی دہلی، 6 نومبر(ہ س)۔
دہلی فسادات 2020 سے متعلق ایک مقدمے میں کرکرڈوما عدالت نے چھ ملزمین کو تمام الزامات سے بری کردیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پولیس عملہ ملزمین کے خلاف پیش کیے گئے ثبوتوں کو قانونی طور پر درست ثابت نہیں کرسکا۔ یہ فیصلہ 5نومبر کو ایڈیشنل سیشن جج، شمال مشرقی ضلع، کرکرڈوما عدالت نے سنایا۔یہ مقدمہ تھانہ نیو عثمان پور میں درج ایف آئی آر نمبر 87/2020سے متعلق تھا۔ اس میں محمد مکرم، ناصر عرف ارباز، محمد نعیم، امان عباس، گلو عرف ارشد زیدی اور شعیب کو بری کیا گیا ہے۔ ایک دیگر ملزم عمران کی وفات کے بعد اس کے خلاف مقدمے کی کارروائی پہلے ہی ختم کردی گئی تھی۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس مقدمے میں محمد مکرم کی قانونی پیروی صدر جمعیة علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں جمعیة علماء ہند کے لیگل سیل کی جانب سے ایڈوکیٹ سلیم ملک نے کی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پولیس کا مقدمہ بنیادی طور پر ایک زخمی گواہ کی گواہی اور سی سی ٹی وی فوٹیج پر مبنی تھا۔ پولیس نے اسی فوٹیج کی مدد سے ملزموں کی شناخت کرائی تھی، لیکن عدالت نے پایا کہ فوٹیج کے ساتھ پیش کیا گیا قانونی سرٹیفکٹ درست نہیں تھا۔ اس کے علاوہ پولیس یہ بھی ثابت نہیں کرسکی کہ فوٹیج کو محفوظ رکھنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے دوران قانونی طریقہ? کار پر پوری طرح عمل کیا گیا تھا۔
عدالت نے اسی وجہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج کو ثبوت کے طور پر قبول نہیں کیا۔ چونکہ گواہ نے بھی ملزموں کی شناخت اسی ویڈیو کی بنیاد پر کی تھی،اس لیے اس کی گواہی کو ملزمان کے خلاف کافی ثبوت نہیں مانا گیا۔ عدالت نے استغاثہ کی جانب سے الزامات ثابت نہ ہونے پر تمام چھ ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ اکثر تفتیشی افسران کو الیکٹرانک ثبوت پیش کرنے کے قانونی طریقے کی پوری معلومات نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے اہم ثبوت بھی عدالت میں قبول نہیں ہوپاتے۔
عدالت نے دہلی پولیس کمشنر کو فیصلے کی نقل بھیجنے کی ہدایت دی ہے، تاکہ تفتیشی افسران کو سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر الیکٹرانک ثبوت جمع کرنے اور عدالت میں پیش کرنے کے قانونی طریقوں کی تربیت دی جاسکے۔
جمعیة علماء ہند صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں دہلی فسادات سے متعلق مقدمات میں متاثرہ افراد کو قانونی مدد فراہم کی جارہی ہے۔ جمعیة علماء ہند کی قانونی کوششوں کے نتیجے میں اب تک 585 افراد ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں، جب کہ 153 افراد عدالتوں سے باعزت بری ہوچکے ہیں۔قبل ازیں جمعیة علماء ہند نے بڑے پیمانے پر ریلیف و راحت رسانی کا عمل انجام دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Md Owais Owais