دہلی-این سی آر میں گریپ-3 کی پابندیاں نافذ، کئی علاقوں میں اے کیو آئی 400 سے تجاوز
نئی دہلی، 6 نومبر (ہ س)۔ دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی کی سطح میں اضافے کے پیش نظر فضائی معیار کے انتظام سے متعلق کمیشن (سی اے کیو ایم) نے سخت اقدامات کرتے ہوئے گریڈیڈ ریسپانس ایکشن پلان (گریپ) کے تیسرے مرحلے کی پابندیاں نافذ کردی ہیں۔ اس کے تحت
CAQM-INVOKES-GRAP-3-CAPITAL


نئی دہلی، 6 نومبر (ہ س)۔ دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی کی سطح میں اضافے کے پیش نظر فضائی معیار کے انتظام سے متعلق کمیشن (سی اے کیو ایم) نے سخت اقدامات کرتے ہوئے گریڈیڈ ریسپانس ایکشن پلان (گریپ) کے تیسرے مرحلے کی پابندیاں نافذ کردی ہیں۔ اس کے تحت آلودگی پر قابو پانے کے لیے تعمیراتی کاموں، گاڑیوں اور آلودگی پھیلانے والی دیگر سرگرمیوں پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

قومی راجدھانی خطے میں آلودگی کی صورت حال مزید خراب ہونے کے خدشے کے پیش نظر کمیشن نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ گریپ-3 نافذ ہونے کے ساتھ ہی متعلقہ ایجنسیوں کو آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات سختی سے نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

قومی راجدھانی کے کئی علاقوں میں فضائی معیار کا اوسط اشاریہ (اے کیو آئی) 382 تک پہنچ گیا، جب کہ کئی علاقوں میں یہ 400 کی حد سے بھی تجاوز کرگیا۔ آلودگی کی بڑھتی ہوئی سطح کے پیش نظر جمعہ کی شام فضائی معیار کے انتظام سے متعلق کمیشن کی ذیلی کمیٹی نے ہنگامی اجلاس طلب کرکے صورت حال کا جائزہ لیا اور گریپ-3 کی پابندیاں فوری طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔

گریپ-3 کے تحت تعمیرات اور انہدام (سی اینڈ ڈی) سے متعلق سرگرمیوں پر پابندی، غیر ضروری تعمیراتی کاموں پر روک، مقررہ علاقوں میں بی ایس-3 پیٹرول اور بی ایس-4 ڈیزل گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی، پانچویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے درس و تدریس کے لئے ہائبرڈ طریقہ کا متبادل اور آلودگی پھیلانے والی صنعتی و دیگر سرگرمیوں کی سخت نگرانی شامل ہے۔ اس کے علاوہ گردوغبار پر قابو پانے اور آلودگی کم کرنے کے اقدامات پر متعلقہ ایجنسیوں کو سختی سے عمل درآمد کرنا ہوگا۔ گریپ کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے تحت نافذ پابندیاں بھی برقرار رہیں گی۔

واضح رہے کہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے مطابق فضائی معیار کے اشاریے (اے کیو آئی) کی مختلف سطحوں میں 0 سے 50 تک اچھا، 51 سے 100 تک اطمینان بخش، 101 سے 200 تک اوسط، 201 سے 300 تک خراب، 301 سے 400 تک انتہائی خراب اور 401 سے 500 تک کی سطح کو سنگین زمرے میں رکھا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande