

علی گڑھ، 6 نومبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) اسٹوڈنٹس یونین، ویمنس کالج اسٹوڈنٹس یونین اور اے ایم یو کورٹ میں طلبہ نمائندوں کے انتخابات کے لیے 5 نومبر کو منعقدہ ووٹنگ کے بعد انتخابات کے نتائج کا اعلان کردیاگیا ہے۔ محمد نعمان اشرف 7,797 ووٹ حاصل کرکے اے ایم یو طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے، جبکہ نشرہ نعیم نے 7,091 ووٹ حاصل کرکے نائب صدر کا عہدہ حاصل کیا۔ محمد ہمدان 8,385 ووٹ حاصل کرکے اعزازی سکریٹری منتخب ہوئے۔
منتخب ہونے والے دس کابینہ اراکین میں محمد احمد خان (10,794 ووٹ)، ہانیہ خان (8,266)، اریبہ دلشاد (7,091)، شاذیہ شمیم (6,332)، محمد محسن کے (6,267)، محمد مرشد کے (5,644)، ارسلان خان (4,680)، انیکا رُمان راہی (4,498)، شاہین پروین (4,098) اور محمد فیض (4,035) شامل ہیں۔
ویمنس کالج اسٹوڈنٹس یونین میں انعم ریاض 806 ووٹ حاصل کرکے صدر منتخب ہوئیں، جبکہ عائشہ خان نے 1,090 ووٹ حاصل کرکے نائب صدر کا عہدہ حاصل کیا۔ مریم جان 862 ووٹ حاصل کرکے اعزازی سکریٹری منتخب ہوئیں۔
ویمنس کالج اسٹوڈنٹس یونین میں آٹھ طالبات کابینہ اراکین منتخب ہوئیں۔ جویریہ رحمان 1,485 ووٹ حاصل کرکے سرفہرست رہیں، جبکہ آمنہ خانم (1,445)، ہبہ منال (1,325)، صبیحہ (1,251)، ذکیہ مرتضیٰ (1,124)، خوشبو پروین (1,118)، مہوش (1,081) اور فاطمہ حسن (1,079) نے بھی کامیابی حاصل کی۔
اے ایم یو کورٹ کے انتخابات میں مختلف فیکلٹیوں اور فیکلٹی گروپس سے 11 طلبہ نمائندے بھی منتخب ہوئے۔ ان میں محمد کیف (فیکلٹی آف میڈیسن، 1,147 ووٹ)، آمنہ فیضان (فیکلٹی آف یونانی میڈیسن، 216 ووٹ)، شہنشاہ خان (فیکلٹی آف سائنس، 941 ووٹ)، محمد رافع (فیکلٹی آف لائف سائنسز، 383 ووٹ)، محمد کمیل اشرف (فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، 1,384 ووٹ)، محمد حمزہ انصاری (فیکلٹی آف لاء، 321 ووٹ)، محمد احسن عثمانی (فیکلٹیز آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ اور انٹرنیشنل اسٹڈیز، 241 ووٹ)، محتشم اعجاز ثانی (فیکلٹیز آف ایگریکلچرل سائنسز، تھیولوجی اور کے اے نظامی سینٹر فار قرآنک اسٹڈیز، 294 ووٹ)، عبدالباسط صدیقی (فیکلٹی آف سوشل سائنسز، 743 ووٹ)، کفیل الحق (فیکلٹی آف آرٹس، 495 ووٹ) اور علمہ مشروف (فیکلٹی آف کامرس، 336 ووٹ) شامل ہیں۔
اس سال کے انتخابات کا امتیازی اور حوصلہ افزا پہلو خواتین کی نمایاں شرکت اور نمائندگی رہا۔ نشرہ نعیم نے نائب صدر کا عہدہ حاصل کیا، جبکہ اے ایم یو طلبہ یونین کی دس رکنی کابینہ میں پانچ طالبات منتخب ہوئیں۔ اسی طرح آمنہ فیضان اور علمہ مشروف اے ایم یو کورٹ کے لیے طالبات کی نمائندہ منتخب ہوئیں۔ ویمنس کالج اسٹوڈنٹس یونین میں بھی نئے عہدیداران اور آٹھ کابینہ اراکین کا انتخاب عمل میں آیا، جو کیمپس کی جمہوری سرگرمیوں میں طالبات کی فعال شرکت کا عکاس ہے۔
نتائج کا اعلان اے ایم یو طلبہ یونین اور اے ایم یو کورٹ انتخابات کے چیف الیکشن آفیسر پروفیسر جاوید طالب اور ویمنس کالج اسٹوڈنٹس یونین انتخابات کی چیف الیکشن آفیسر پروفیسر نازیہ حسن نے کیا۔
انتخابات کے انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے نومنتخب عہدیداران، کابینہ اراکین اور کورٹ نمائندوں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ”ہمارے طلبہ نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ جمہوری عمل کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اور مجھے اس بات پر فخر ہے کہ انہوں نے اس میں کس جوش و خروش سے حصہ لیا۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ”میں چیف الیکشن آفیسرز، پراکٹر، ڈینز اور پوری انتظامیہ کی ستائش کرتی ہوں جنہوں نے منصفانہ اور ذمہ دارانہ انداز میں انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا۔ میں اپنے اساتذہ اور طلبہ کی بھی شکر گزار ہوں جن کے تعاون سے یہ ایک حقیقی مشترکہ کوشش بن سکی۔ مجھے امید ہے کہ نومنتخب نمائندے دیانت داری اور عزم کے ساتھ اپنے ساتھی طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں گے۔“
پروفیسر جاوید طالب اور پروفیسر نازیہ حسن نے اپنی اپنی انتخابی ٹیموں، پولنگ عملے، یونیورسٹی حکام اور ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انتخابات کے پرامن، شفاف اور خوش اسلوبی سے انعقاد میں تعاون کیا۔ انہوں نے پورے انتخابی عمل کے دوران امیدواروں، طلبہ رضاکاروں اور ووٹروں کی جانب سے ملنے والے تعاون کی بھی ستائش کی۔
پراکٹر پروفیسر محمد نفیس احمد انصاری نے انتخابات کے دوران پراکٹوریل ٹیم، سکیورٹی عملے اور دیگر تعینات اہلکاروں کی لگن اور محنت کو سراہا۔ انہوں نے طلبہ کی جانب سے نظم و ضبط، تحمل اور باہمی احترام کے قابلِ ستائش مظاہرے کی بھی تعریف کی، جس نے پورے کیمپس میں پرامن ماحول برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون اور مدد فراہم کرنے پر خصوصاً ضلع انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔
انتخابی عمل کے پہلے دن سے نتائج کے اعلان تک طلبہ نے بھرپور تعاون کیا۔ اساتذہ نے غیر جانب دارانہ انداز میں انتخابی عمل کی رہنمائی کی، جبکہ طلبہ نے نظم و ضبط اور خوش گوار رویے کا مظاہرہ کیا۔ اس طرح یہ انتخابات اے ایم یو برادری کی ایک مشترکہ کوشش بن گئے، جس میں اساتذہ اور طلبہ نے مل کر اپنا کردار ادا کیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد