امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے کی تیاری
واشنگٹن، 5 نومبر (ہ س)۔ امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد سیاسی ماحول کافی گرم ہو گیا ہے۔ کئی ریپبلکن ارکانِ پارلیمنٹ اور ان کے اتحادی اس شکست کا ذمہ دار وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو ٹھہرانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ پ
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے کی تیاری


واشنگٹن، 5 نومبر (ہ س)۔ امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد سیاسی ماحول کافی گرم ہو گیا ہے۔ کئی ریپبلکن ارکانِ پارلیمنٹ اور ان کے اتحادی اس شکست کا ذمہ دار وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو ٹھہرانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ پینٹاگون کے اس اعلیٰ عہدیدار کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ایوانِ نمائندگان میں اگلے ہفتے مواخذے کی تحریک پر ووٹنگ ہو سکتی ہے۔ سی این این اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹس کے مطابق، ریاست کینٹکی سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکنِ پارلیمنٹ تھامس میسی نے واضح کیا ہے کہ اگلے ہفتے کانگریس کی کارروائی دوبارہ شروع ہوگی۔ اس دوران وہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے کی تحریک پر ووٹنگ کرانے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔ ذرائع کا خیال ہے کہ یہ تحریک ایوان میں منظور بھی ہو سکتی ہے۔

ہیگسیتھ پر کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران میں جنگ شروع کرنے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور حساس فوجی معلومات افشا کرنے جیسے سنگین الزامات ہیں۔ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی بڑی شکست کے لیے کئی ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکانِ پارلیمنٹ ہیگسیتھ کی قیادت اور ایران جنگ کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ رکنِ پارلیمنٹ تھامس میسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ اگر ہیگسیتھ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں تو وہ مواخذے کی کارروائی سے بچ سکتے ہیں۔

فلوریڈا کے نومنتخب گورنر بائرن ڈونلڈز، جو فی الحال ایوانِ نمائندگان کے رکن ہیں، نے کہا ہے کہ وہ ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے۔ ایوان کی نگرانی کمیٹی کے متوقع چیئرمین رکنِ پارلیمنٹ رابرٹ گارسیا نے کہا کہ ٹرمپ سے متعلق تحقیقات ڈیموکریٹس کو عام لوگوں کے اخراجات کم کرنے کے بنیادی مقصد سے نہیں بھٹکائیں گی۔ انہوں نے چار اہم معاملات کا ذکر کیا: ٹرمپ خاندان کے کاروبار، امیگریشن قوانین پر عمل درآمد، وائٹ ہاؤس کے بال روم کے لیے کارپوریٹ چندہ اور ایپسٹین فائلیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں ہیگسیتھ کو عہدے سے ہٹانے اور ان کی جگہ نئے چہروں کی تلاش کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ان ممکنہ ناموں میں فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس کا نام نمایاں ہے۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی سطح پر ہیگسیتھ کو برطرف کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہیگسیتھ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔

قابلِ ذکر ہے کہ امریکی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں، یعنی ایوانِ نمائندگان میں مواخذے کی تحریک منظور ہونے کے لیے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اس کے بعد معاملہ ایوانِ بالا، یعنی سینیٹ میں جاتا ہے، جہاں سزا کے لیے دو تہائی اکثریت ضروری ہوتی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج کہا کہ یہ بات بڑی حد تک درست ہے کہ ایران جنگ کی وجہ سے ریپبلکن پارٹی (جی او پی) کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس کے بیان کو ہی دہرایا۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے ممکنہ تحقیقات کے پیش نظر متعلقہ دستاویزات کو محفوظ رکھنے کے لیے خطوط جاری کیے ہیں۔ موجودہ اور سابق عہدیداروں کے مطابق، محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی بھی کانگریس کی جانب سے شروع ہونے والی سخت نگرانی اور تحقیقات کے لیے تیاری کر رہا ہے۔

اس دوران اندازہ لگایا گیا ہے کہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں کم از کم 245 سیٹوں پر پہنچ جائیں گے۔ سینیٹ کی دو نشستوں پر نتائج ابھی واضح نہیں ہیں۔ ریاست مسیسیپی میں صورتِ حال غیر یقینی ہے، جبکہ الاسکا میں ڈیموکریٹس کی جیت کے امکانات زیادہ بتائے جا رہے ہیں۔ مسیسپی کی سینیٹ نشست کے نتائج ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں۔ یہاں سے ڈیموکریٹک امیدوار اسکاٹ کولوم نے کہا ہے کہ انہیں اپنی جیت کا پورا یقین ہے۔

فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس نے کئی ریپبلکن امیدواروں کی کارکردگی پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹرز ریپبلکن کے کام کاج سے مایوس ہیں۔ نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے ڈیموکریٹس کی جیت کا سہرا اس بات کو دیا کہ انہوں نے محنت کش طبقے کے امریکی شہریوں اور ان کے لیے اہم مسائل پر توجہ مرکوز کی، جن میں اخراجات کم کرنا اور ووٹروں کا اعتماد بحال کرنا شامل ہے۔

اس انتخاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ میری لینڈ کے ویس مور اب تک امریکہ کے واحد سیاہ فام گورنر تھے، لیکن جلد ہی ان کے ساتھ چار مزید سیاہ فام گورنر شامل ہونے والے ہیں۔ انہوں نے جارجیا کی کیشا لانس باٹمز کے تاریخی انتخاب کا ذکر کیا، جو اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون ہیں۔

دوسری جانب ایوانِ نمائندگان کے سابق اسپیکر نیوٹ گنگرچ نے اس بات پر شبہ ظاہر کیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس 2028 میں صدارتی امیدوار کے طور پر ریپبلکن پارٹی کی قیادت کر پائیں گے یا نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست اور وینس کی بعض حکمتِ عملیوں کے باعث ان کی مقبولیت کی چمک کافی ماند پڑ گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande