
نئی دہلی، 5 نومبر(ہ س) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پنجاب پی سی ایس مین امتحان 2026 کے نتائج میں سامنے آنے والی سنگین بے ضابطگیوں کو لے کر وزیر اعلیٰ بھگونت مان پر ریاست کے نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی نے گورنر گلاب چند کٹاریہ کو خط لکھ کر پورے معاملے کی مرکزی تفتیشی بیورو(سی بی آئی) سے جانچ کرانے، انتخابی عمل فوری طور پر روکنے اور تحقیقات مکمل ہونے تک تمام متعلقہ ریکارڈ اور شواہد محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بی جے پی کے مرکزی دفتر کے انچارج اور رکن پارلیمنٹ ترون چُغ نے جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھگونت مان اور اروند کیجریوال کی وہ حکومت، جو بغیر پیسے اور سفارش کے ملازمت دینے کا دعویٰ کرتی تھی، آج پنجاب کے سب سے بڑے بھرتی امتحانات کی ساکھ پر ہی سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ جس وزیر اعلیٰ نے نوجوانوں کو روزگار کے خواب دکھا کر اقتدار حاصل کیا، ان کے دور حکومت میں بار بار پرچہ لیک ہونے، بھرتیوں میں دھاندلی اور انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ بھگونت مان کو بتانا چاہیے کہ آخر پنجاب کے نوجوانوں کے ساتھ یہ ناانصافی کب تک جاری رہے گی؟
چُغ نے کہا کہ 4 نومبر کی دیر رات اعلان کیے گئے پی سی ایس مین امتحان کے نتائج نے پورے پنجاب کو حیران کر دیا ہے۔ امیدواروں کا الزام ہے کہ جن لوگوں نے امتحان دیا ہی نہیں، ان کے رول نمبر بھی کامیاب امیدواروں کی فہرست میں نظر آ رہے ہیں۔ ایک ہی امتحانی مرکز سے 24.21 فیصد امیدواروں کا انتخاب، 86 امیدواروں کا مسلسل تین یا چار رول نمبر کے گروپ میں شارٹ لسٹ ہونا اور بعض امتحانی کمروں سے 10 سے 11 امیدواروں کا منتخب ہونا جیسے سنگین سوالات سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اشتہار میں 331 آسامیوں کے مقابلے میں صرف 751 امیدواروں کو انٹرویو کے لیے بلائے جانے پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں، جبکہ مقررہ معیار کے مطابق آسامیوں کی تعداد سے تین گنا امیدواروں کو بلایا جانا چاہیے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے یا پھر رول نمبر کی تقسیم سے لے کر امتحانی مرکز اور نتائج تک کسی خاص منصوبہ بندی کے تحت اپنے پسندیدہ امیدواروں کو فائدہ پہنچایا گیا؟ ان تمام سوالات کا جواب بھگونت مان حکومت کو دینا ہوگا۔
بی جے پی لیڈر نے واضح کیا کہ اس معاملے کی جانچ پنجاب پولیس یا ریاستی حکومت کے زیر کنٹرول ایجنسیوں سے کرانا کافی نہیں ہوگا، کیونکہ سوالات خود حکومت کے دور اور اس کے انتظامی نظام پر اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی سی ایس امتحان کی تمام جوابی کاپیاں، حاضری رجسٹر، سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈیجیٹل لاگ، رول نمبر کی تقسیم سے متعلق ریکارڈ، امتحانی مراکز کی تفصیلات اور جانچ کے ریکارڈ کو فوری طور پر محفوظ کیا جائے۔
چُغ نے وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے نوجوانوں کے ساتھ اتنی بڑی بداعتمادی کے بعد وزیر اعلیٰ اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔ بھگونت مان کو اپنی کرسی سے زیادہ پنجاب کے نوجوانوں کے مستقبل کی فکر کرنی چاہیے۔ عام آدمی پارٹی کی حکومت نے روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن آج نوجوانوں کا اپنے ہی ریاستی بھرتی نظام پر سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ