
نئی دہلی، 5 نومبر(ہ س )۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ ان کی حکومت کھیلوں کو خصوصی ترجیح دے رہی ہے۔ اب ایسے کھیلوں پر بھی توجہ دی جا رہی ہے جنہیں ماضی میں ہندوستان کی جانب سے نمائندگی کی کمی کے باعث نظر انداز کیا جاتا رہا۔ پیرا اسپورٹس اس کی بہترین مثال ہیں۔
وزیر اعظم نے آج نئی دہلی کے اندرا گاندھی اسپورٹس کمپلیکس میں ایشیائی پیرا گیمز 2026 میں حصہ لینے والے ہندوستانی دستے سے ملاقات کی۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے پیرا ایتھلیٹس کی تعریف کی اور ملک کی جانب سے انہیں مبارک باد پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ 2010 کے پیرا ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان نے صرف ایک طلائی سمیت مجموعی طور پر 14 تمغے جیتے تھے، جبکہ اس مرتبہ یہ تعداد بڑھ کر 114 ہو گئی ہے۔ یہ کامیابی کھلاڑیوں کی سخت محنت اور غیر معمولی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
وزیر اعظم نے کہا، ’’آج کے دور میں اگر کسی نوجوان کو اپنی صلاحیت پر بھروسہ ہے تو اسے یہ یقین بھی ہوتا ہے کہ پورا ملک اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ پیرا اسپورٹس اس کی بہترین مثال ہیں۔‘‘
اپنی حکومت کے حالیہ فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معذور افراد کی پنشن میں اضافہ کیا گیا ہے اور پنشن کے لیے معذوری کی مقررہ حد 80 فیصد سے کم کرکے 40 فیصد کر دی گئی ہے۔ پہلے پنشن حاصل کرنے کے لیے 18 سال کی عمر مکمل ہونا ضروری تھا، لیکن اب پیدائش سے ہی اہل معذور بچوں کے لیے بھی پنشن کا راستہ کھول دیا گیا ہے۔
پیرا کھیلوں میں ہندوستان کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس مرتبہ ملک نے 30 طلائی، 35 چاندی اور 49 کانسے کے تمغے جیتنے کے ساتھ پانچ نئے عالمی ریکارڈ اور نو ایشیائی ریکارڈ بھی قائم کیے ہیں۔ 56 خاتون کھلاڑیوں میں سے 34 نے تمغے حاصل کیے۔ اس کے علاوہ چار مقابلوں میں پوڈیم کے تینوں مقامات پر ہندوستانی کھلاڑیوں نے جگہ بنائی۔ مقابلے کے آخری دن ہندوستان نے نو طلائی تمغے جیتے۔
اس پروگرام میں کھلاڑیوں، کوچز، ہندوستانی پیرا اولمپک کمیٹی اور ہندوستانی اولمپک ایسوسی ایشن کے عہدیداروں، قومی کھیلوں کی تنظیموں کے نمائندوں اور وزارتِ امورِ نوجوانان و کھیل کے افسران نے شرکت کی۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان نے رواں سال جاپان کے شہر آئچی-ناگویا میں منعقدہ ایشیائی پیرا کھیلوں میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ہندوستان کے 97 پیرا ایتھلیٹس نے مجموعی طور پر 114 تمغے حاصل کیے، جن میں 30 طلائی، 35 چاندی اور 49 کانسے کے تمغے شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ